تربت(رپورٹر) نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی نائب صدر انجنیئر حمید بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کو دانستہ طور پر بدامنی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے اور برادر کشی جیسے واقعات ناقابلِ برداشت ہیں۔ نیشنل پارٹی کے رہنما عارف سلیم کے گھر پر دستی بموں سے حملہ کھلی دہشت گردی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے باوجود بلوچستان کو مسلسل محرومیوں، ناانصافیوں اور بدامنی کا سامنا ہے۔ معدنی وسائل سے مالا مال اور اہم جغرافیائی حیثیت رکھنے والی اس سرزمین کو ترقی سے محروم رکھنا اور اسے خونریزی کی طرف دھکیلنا ایک سنگین المیہ ہے۔ ایسے حالات میں برادر کشی دراصل دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔
انجنیئر حمید بلوچ نے واضح کیا کہ اختلافات کو ہتھیاروں کے ذریعے حل کرنے کی سوچ ناقابلِ قبول ہے۔ جو عناصر صوبے میں خوف، انتشار اور خونریزی پھیلانا چاہتے ہیں وہ درحقیقت بلوچستان کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ دشمنی اور تشدد کی سیاست نے پہلے ہی صوبے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے، اب مزید تباہی کی گنجائش نہیں۔
انہوں نے کہا کہ گوادر کی بندرگاہ اور دیگر اہم منصوبے بلوچستان کی تقدیر بدل سکتے ہیں، مگر بدامنی اور اندرونی تصادم ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ سیاسی قیادت، قبائلی عمائدین اور نوجوانوں کو واضح اور جرات مندانہ مؤقف اپنانا ہوگا۔ خاموشی اختیار کرنا یا مصلحت کا شکار ہونا دراصل تشدد کی حوصلہ افزائی ہے۔ اختلافِ رائے کا حق سب کو حاصل ہے، لیکن اس کا جواب بارود اور خون نہیں ہو سکتا۔
انجنیئر حمید بلوچ نے کہا کہ ریاست بھی اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم، فوری انصاف اور نوجوانوں کو باعزت روزگار کی فراہمی ناگزیر ہے۔ جب تک محرومیوں کا حقیقی ازالہ نہیں ہوگا، بداعتمادی ختم نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان مزید لاشیں برداشت نہیں کر سکتا۔ وقت آ گیا ہے کہ خون کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے دفن کر کے اتحاد، استحکام اور سنجیدہ مکالمے کا راستہ اختیار کیا جائے، ورنہ نقصان سب کا ہوگا۔

