بلوچستان کی پائیدار ترقی، معاشی استحکام اور سماجی بہتری کا انحصار معیاری تعلیم کے فروغ پر ہے،میرشعیب نوشیروانی

کوئٹہ(این این آئی) صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، معاشی استحکام اور سماجی بہتری کا انحصار معیاری تعلیم کے فروغ پر ہے اور موجودہ صوبائی حکومت تعلیم کے شعبے کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ہماری حکومت نے صوبے میں کم وپیش تین ہزار دو سو غیر فعال سکولوں کو مکمل طور پر فعال کیا انہوں نے کہا کہ تعلیم کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے اور اگر نوجوان نسل کو بہتر اور معیاری تعلیمی مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکتی ہے بلکہ ملک و قوم کی ترقی میں بھی موثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت صوبے کے تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے، تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور طلبہ کو سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے متعدد اصلاحات متعارف کروا رہی ہے۔صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ صوبے کے تمام اضلاع، بالخصوص دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں تعلیم کی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ وہاں کے طلبہ بھی معیاری تعلیم کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں اور کالجوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے اور تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لیے بجٹ میں تعلیم کے شعبے کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں میں جدید تدریسی طریقوں، ٹیکنالوجی کے استعمال اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت پر بھی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ طلبہ کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیم فراہم کی جا سکے۔میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں اور اگر انہیں بہتر تعلیمی ماحول اور مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیم کے فروغ کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھے ہوئے ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت تعلیمی شعبے میں اصلاحات کے عمل کو جاری رکھے گی اور ایسے اقدامات کرے گی جن سے بلوچستان میں تعلیم کا معیار بہتر ہو، نوجوانوں کو روشن مستقبل میسر آئے اور صوبہ ترقی کی راہ پر مزید تیزی سے گامزن ہو سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں