سندھ کے ضلع خیرپور میں بچوں میں منکی پاکس وبا کی تصدیق کردی گئی ہے۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق سندھ پبلک ہیلتھ لیبارٹری نے ہفتے کو 3 بچوں میں منکی پوکس مرض کی تصدیق کردی ہے۔ ضلع خیرپور کے بچوں میں یہ وباء گذشتہ 12دن سے جاری ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ڈائریکٹر جنرل صحت سندھ نے بھی منکی پاکس وباء کی بجائے بچوں میں اسکن کی بیماری کے حوالے سے 24 مارچ کو خیرپور کے ضلعی افسران کو لیٹر لکھا تھا جس میں بچوں میں اسکن بیکٹریا مرض ظاہر کیاگیا تھا لیکن جب متاثرہ بچوں کے حاصل کئے جانے والے نمونوں کو کراچی اوجھا میں واقع سندھ پبلک ہیلتھ لیبارٹری میں ٹیسٹ کیا تو 3 چھوٹے بچوں میں منکی پاکس کی تصدیق ہوئی۔
منکی پاکس کا مرض ایک سے دوسرے بچوں میں بآسانی منتقل ہوتا ہے جس کی وجہ اس بات کا خدشہ ہورہا ہے کہ یہ مرض مزید پھیل ناجائے۔ متاثرہ بچوں کی عمر ایک سال سے بھی کم ہیں۔
خیرپورضلع میں گزشتہ ماہ بچوں کے جسم پر چکن پاکس کی طرح دانے نمایاں ابھرنے پر ان بچوں کو خیرپور کے ایک نجی اسپتال لایا گیا جہاں ان بچوں کی غلط تشخیص کی گئی اور علاج بھی جاری رکھا لیکن بچوں کی حالت مزید خراب ہونے پر ضلعی ہیلتھ افسران کو آگاہ کیاگیا۔
بیشتر بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے پر محکمہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل صحت سندھ کو مطلع کیاگیا جس پر ڈائریکٹر جنرل صحت نے مرض کی درست تشخیص کرنے کی بجائے بچوں میں اسکن بیماری قراردیکرمتعلقہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران کو 24 مارچ کوایک لیٹر کے ذریعے ہدایت جاری کردی کہ بچوں میں اسکن بیماری پر قابو پانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔
لیکن بچوں کی حالت بدستور تشویشناک ہونے پر متاثرہ بچوں کے دانوں کے نمونے لےکراچی میں واقع ڈاو یونیورسٹی اوجھاکیمپس کی سندھ پبلک ہیلتھ لیبارٹری بھیجے گئے جہاں ہفتے 4 اپریل کو ان بچوں میں منکی پاکس کی تصدیق کی گئی۔
اس صورتحال کے بعد ضلع خیرپور میں منکی پوکس وباء کے پھیلنے کا خدشہ پیدا یوگیا

