بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب محض سائنسی بحث نہیں رہے تلخ زمینی حقیقت بن چکے ہیں،سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ(ین این آئی) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب محض سائنسی بحث نہیں رہے بلکہ ایک تلخ زمینی حقیقت بن چکے ہیں حالیہ دنوں میں بے وقت بارشوں نے صوبے کے مختلف علاقوں میں شدید نقصان پہنچایا ہے جس سے انسانی جانوں، مال مویشی اور بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچا ہے یہ بارشیں موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے غیر متوقع موسمی پیٹرن کا حصہ ہیں کوئٹہ سمیت ژوب، نصیرآباد، سبی اور خضدار جیسے اضلاع میں بارشوں نے نظام زندگی کو شدید متاثر کیا ہے کئی نشیبی علاقے زیر آب آ گئے، کچے مکانات منہدم ہو گئے اور سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں دیہی علاقوں میں مواصلاتی رابطے بھی متاثر ہوئے مال مویشی کی ہلاکتوں نے مقامی معیشت کو مزید کمزور کر دیا ہے جہاں پہلے ہی غربت کی شرح بلند ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادرنے مزید کہا ہے کہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خاطر خواہ تیاری نہ رکھتی دکھائی دیتی ہے بروقت ریسکیو آپریشنز، متاثرین کی منتقلی اور فوری امداد کی فراہمی میں تاخیر نے عوامی مشکلات میں اضافہ کیا ہے یہ صورتحال ادارہ جاتی کمزوریوں اور پیشگی منصوبہ بندی کے فقدان کو واضح کرتی ہے متاثرین کو فوری مالی امداد اور بحالی پیکیجز فراہم کیے جائیں تاکہ وہ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں ریسکیو سروسز کو جدید آلات اور تربیت سے لیس کرنا ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ آئندہ قیمتی جانوں اور املاک کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر بلوچستان کو خصوصی توجہ کی ضرورت ہے بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ایسے نقصانات مستقبل میں مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، جس کا خمیازہ سب سے زیادہ غریب اور کمزور طبقے کو بھگتنا پڑے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں