حمیدہ کشش میں ادب کی تمام جہتوں موجود تھیں۔ پروفیسر شاداب احسانی

کراچی ( رپورٹر) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام سینئر نثر نگار و شاعرہ حمیدہ کشش کی یاد میں تعزیتی اجلاس کا انعقاد حسینہ معین ہال میں کیا گیا ، جس میں شاداب احسانی، افتخار ملک ، بشیر سدوزئی ، سہیل احمد ، ڈاکٹر عالیہ امام اور و دیگر نے اظہار خیال کیا۔ تعزیتی اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا جبکہ نظامت کے فرائض سید عبدالباسط نے انجام دئیے ، پروفیسر شاداب احسانی نے کہا کہ حمیدہ کشش ادب کی ساری جہتوں کی ساتھ کھڑی ہوئی تھی ، جیسا ان کا نام تھا ویسی ان کی شخصیت تھی ، ان کے کلام کو کتابی شکل دی جائے تو آپ کو پتا چلے گا کہ وہ کتنی قابل شخصیت کی مالک تھیں۔ معروف اسکالر و ادیبہ ڈاکٹر عالیہ امام نے کہا کہ حمیدہ کشش کو ہم آج محبت کا خراج اور عقیدت کے پھول پیش کر رہے ہیں ، اس کی شخصیت جب تک ہمارے درمیان موجود تھی ہمیں اس کی بڑائی کا احساس اتنی شدت سے پہلے کبھی نہیں تھا ، حمیدہ ایک خو بصورت انسان اور اپنی ذات میں اعلیٰ صفات تھی ۔ معروف لکھاری بشیر سدوزئی نے کہا کہ حمیدہ کشش کو ہم سب آج خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں ، حمیدہ ایک اچھے اخلاق کی مالک تھیں جو ایک ٹریفک حادثے میں ہم سے بچھڑ گئیں ، ان کی زندگی بناوٹ سے پاک رہی، ان کی تصاویر ان کی تحریریں ہمیں ہمیشہ ان کی یاد دلاتی رہیں گی ، انہوں نے مزید کہا کہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی یہ روایت ہے کہ یہ ہمیشہ اپنے لوگوں کو یاد رکھتی ہے ،معروف شاعر افتخار ملک نے کہا کہ حمید کشش کا اصل نام حمیدہ سحر تھا ، آرٹس کونسل آنے کے بعد انہوں نے اپنے نام کے آگے ’’ کشش‘‘ لگانے کا فیصلہ کیا جس سے ان کے شہرت میں مزید اضافہ ہوا، وہ بہت سادہ طبیعت کی مالک تھیں، سہیل احمد نے کہا کہ شاعری اور نثر نگاری میں حمیدہ کشش کانام نمایاں تھا ، ان کی شاعری سننے والوں کے دل میں جگہ بنا لیتی تھی، افتخار ملک نے مرزا غالب کے اشعار جبکہ سہیل احمد نے حمیدہ کشش کو شاعری کے ذریعے خراج عقیدت بھی پیش کیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں