وزن کم کرنیوالی ادویات ذہنی مسائل کے خطرات میں نمایاں کمی لاسکتی ہے:تحقیق

ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ ٹائپ 2 ذیابیطس اور موٹاپے کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات (جیسے اوزیمپک اورویگووی) ممکنہ طور پر ذہنی صحت کے حوالے سے بھی حیران کن فوائد فراہم کرسکتی ہیں۔ یہ ادویات ایک خاص کلاس سے تعلق رکھتی ہیں جسے جی ایل پی-1ریسیپٹر ایگونِسٹس کہا جاتا ہے۔

یونیورسٹی آف ایسٹرن فن لینڈ، سوئیڈن کی کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ اور آسٹریلیا کی گریفتھ کے سائنس دانوں نے مشترکہ طور پر کی گئی تحقیق میں محققین نے سویڈن کے قومی ہیلتھ ریکارڈز کا تجزیہ کیا۔ جس میں تقریباً ایک لاکھ افراد کو 2009 سے 2022 تک فالو کیا گیا۔ ان میں سے 20 ہزار سے زائد افراد نے اس دوران جی ایل پی-1 ادویات استعمال کی تھیں۔ اس بڑے ڈیٹا سیٹ کی مدد سے سائنس دانوں نے اُن ادوار کا موازنہ کیا جب لوگ یہ ادویات لے رہے تھے اور جب نہیں لے رہے تھے۔

موٹاپا اور ذیابیطس جیسے امراض اکثر ڈپریشن، بے چینی اور دیگر ذہنی مسائل کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جڑے ہوتے ہیں۔

دوسری طرف، جو لوگ پہلے سے نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوں، ان میں میٹابولک بیماریوں کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ اسی دوطرفہ تعلق کی وجہ سے ماہرین یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جسمانی بیماریوں کے علاج کیا ذہنی صحت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ڈپریشن، اینزائٹی اور ہسپتال کے اخراجات میں نمایاں کمی

نتائج سے پتا چلا کہ جی ایل پی-1 ادویات کے استعمال اور بہتر ذہنی صحت کے درمیان مضبوط تعلق موجود ہے۔ خاص طور پر سیمیگلوٹائڈ (جو اوزیمپک اور ویگووی کا بنیادی جز ہے) کے استعمال سے نفسیاتی اسپتالوں کے وزٹس اور بیماری کی چھٹیوں میں واضح کمی دیکھی گئی۔

جب لوگ سیمیگلوٹائڈ استعمال کر رہے تھے تو نفسیاتی اسپتال میں داخلوں اور چھٹیوں کی شرح میں 42 فی صد تک کمی آئی جبکہ ڈپریشن کا خطرہ 44 فی صد کم ہو گیا اور اینزائٹی ڈِس آرڈر میں 38 فی صد کمی دیکھی گئی۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں