خاران میں بڑھتی چوری و ڈکیتی کے خلاف دوسرے روز بھی شٹر ڈاؤن، دھرنا جاری

خاران (رپورٹ محمدعیسی محمدحسنی ) خاران شہر میں چوری ڈکیتیوں کے خلاف دوسرے روز بھی دھرنا و شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری رہی خاران کے تمام چھوٹے بڑے کاروباری وتجارتی مراکز مالیاتی ادارے مکمل طور پر بند ہیں جبکہ چیف چوک خاران میں عوام کی جانب سے دھرنا جاری ہے دھرنے کے شرکاء سے مولانا عظمت اللہ انقلابی مولانا نعمت اللہ حبیبی ندیم بلوچ ملک منظور احمد نوشیروانی مجیب الرحمٰن نوشیروانی سنیل کمار عزیز اکرم بلوچ و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خاران کے حالات دن بدن خراب ھوتے جا رہے ہیں نہ دن کو امن ہے اور نہ ہی رات کو امن مل رہا ہے مسلح افراد دن دھاڑے دکانوں کو لوٹ رہے ہیں لیکن پولیس انتظامیہ کی جانب سے کوئی نہ کاروائی ھو رہا ھے اور نہ ہی کوئی ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں خاران میں گزشتہ کئی مہینوں سے پورا خاران بدامنی کا شکار ہیں مجبوری اور ضرورت کے کام کے حوالے سے کوئی اپنے گھر سے نہیں نکل سکتا رات کو اوقات ایمرجنسی حالات میں مریضوں کو ہسپتال لے جانے سے کتراتے ہیں خاران چونکہ تمام قوموں کا ایک گلدستہ جیسا شہر رہا ہیں آج پتہ کس کی نظر لگ گئی ہیں گھروں میں لوگ محفوظ نہیں ہیں اس دور میں کسی کا نہ جان اور نہ ہی مال محفوظ ہیں آئے دن ڈکیتی اور چوری کے وارداتوں کے اضافے سے عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں ایسا دن نہیں چوری اور ڈکیتی کی واردات نہ ہو بھرے بازار میں نامعلوم مسلحہ افراد دن اور شام کے اوقات تسلی سے چوری اور ڈکیتی کرکے فرار ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جوکہ خاران پولیس کے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں ہیں مقررین نے صوبائی وزیر و ایم پی اے خاران میر شعیب جان نوشیروانی کمشنر رخشان ڈویژن محبوب احمد اچکزئی۔ڈی آئی جی پولیس رخشان رینج عبدالحی بلوچ۔ڈپٹی کمشنر خاران منیر احمد سومرو ایس پی پولیس عبدالسلام کاکڑ سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ خاران کو امن کا گہوارہ بنائیں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی عمل میں لاکر انھیں گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچائیں چوری اور ڈکیتی پر فوری قابو پاتے ہوئے چوری شدہ سامان وغیرہ برآمد کرے اور خاران شہر میں پولیس کی گشت کو بڑھایا جائے تاکہ عوام کی جان و مال کی تحفظ یقینی ہو

اپنا تبصرہ بھیجیں