کوئٹہ (این این آئی) پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ تحصیل صدر کے ایگزیکٹیو اور تحصیل کمیٹی کے علیحدہ علیحدہ اجلاس تحصیل سیکرٹری نعیم پیر علیزئی کی زیر صدارت منعقد ہوئے۔ جس میں پارٹی کے صوبائی سینئر نائب صدر وضلع کوئٹہ کے سیکرٹری سید شراف آغا، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری نوابزادہ اسفند یار جوگیزئی، ضلع ایگزیکٹیوز وضلع کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس کی کارروائی تحصیل سینئر معاون سیکرٹری راحت بازئی نے سرانجام دیئے۔ اجلاس میں گزشتہ ماہ کی سیاسی تنظیمی رپورٹس پیش کی گئی اور آئندہ کا لائحہ عمل میں مختلف فیصلے کیئے گئے۔ جس کے مطابق عید کے تیسرے روز چمن میں پارٹی کے محبوب چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے زیر صدارت منعقد ہونیوالے جلسہ عام میں بھرپور انداز میں شرکت کا فیصلہ کیاگیا۔پارٹی رہنماؤں نے منعقدہ اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشتونخوامیپ کے محبوب چیئرمین کی سربراہی میں ملک کو ایک حقیقی جمہوری فیڈریشن بنانے، 1973کے آئین کو تحفظ دینے، جمہوریت، پارلیمنٹ کی خودمختاری کے لیے جدوجہد جاری ہے۔ پشتونخوامیپ کے کارکنان کو اس جدوجہد کے دوران اپنی ذمہ داریوں کو احساس کرنا ہوگا، پارٹی کارکنوں کی غفلت، سستی جمہوری تحریک کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر جمہوری قوتوں کی منصوبہ بندی کے تحت سیاسی جمہوری پارٹیوں، جمہوری قوتوں، جمہوری کارکنوں کو جمہوری تحریکوں سے دستبردار کرنا، مایوس کرنے کا عمل شروع دن سے جاری رہا ہے لیکن پشتونخواملی عوامی پارٹی نے پشتونخوا وطن اور ملک بھر پارٹی کے بانی خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی، پارٹی چیئرمین ملی مشر محمود خان اچکزئی کی قیادت میں اپنے عوام کے سیاسی شعور کو اجاگر کرنے میں اہم اور کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے اس راہ میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ آج سوشل میڈیا کے زمانے میں جمہوری موقف کو عوام تک پہنچانا مزید آسان ہوچکاہے لیکن اس کے لیے ہمیں اپنے پارٹی ڈسپلن، نظم وضبط اور آئین ومنشور کی پابندی کرنی ہوگی اور جو راہ ہمیں خان شہید نے بتائی ہے ان کے نقش قدم پر چل کر ہی ہم اپنی قومی سیاسی جمہوری اہداف کی منزل طے کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ اپنے تنظیمی ڈھانچوں کو مضبوط ومنظم بنا کر ہر قسم کے حالات کے لیے تیار رہے اور احتجاج، مظاہرے، جلسے، سیمینار،جلوس یہ سب سیاسی کارکنوں کی تربیت اورقوم کو بہتر نمائندگی فراہم کرنے اور ان کے ارمانوں کی تکمیل کا حصہ ہیں۔ جس میں کسی بھی قسم کی سستی آئندہ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی نے پہلے ہی عوام کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے، لیکن افسوس کہ حکومتی نااہلی اور متعلقہ اداروں کی غفلت نے عوام کو بنیادی سہولیات سے بھی محروم کر دیا ہے۔ بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کے بعد اب گیس کی مسلسل بندش نے شہریوں کو شدید اذیت ناک صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ گھروں میں کھانا پکانا مشکل ہو چکا ہے، کاروبار تباہ ہو رہے ہیں اور طلبہ سمیت ہر طبقہ ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ ادارے عوامی مسائل کے حل میں مکمل غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ عوام بار بار احتجاج اور شکایات کر رہے ہیں لیکن ذمہ داران کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ عوام مہنگی ترین بجلی اور گیس کے بل ادا کرنے کے باوجود بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرے، مہنگائی اور بے روزگاری پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات کرے اور بدامنی کے واقعات کی روک تھام یقینی بنائے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو عوامی غصہ کسی بھی وقت شدید احتجاج کی صورت اختیار کر سکتا ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔

