آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے افسانہ نگار ، مترجم و محقق آصف فرخی کی چھٹی برسی کے موقع پر تقریب کا انعقاد

کراچی (رپورٹر) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے افسانہ نگار ، مترجم و محقق آصف فرخی کی چھٹی برسی کے موقع پر تقریب کا انعقاد جوش ملیح آبادی لائبریری میں کیا گیا جس کی صدارت معروف شاعرہ زہرا نگاہ نے کی۔ تقریب میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ، ادیبہ نورالہدیٰ شاہ، معروف شاعرہ ڈاکٹر فاطمہ حسن ، اخلاق احمد، معروف صحافی پیرزادہ سلمان، شاعرہ عنبریں حسیب عنبر، کاشف رضا، حوری نورانی، امینہ سید، اقبال خورشید، شاہ محمد پیرزادہ، افضال احمد سید، طارق اسلم اور اعجاز کشف نے اظہار خیال کیا جبکہ معروف نقاد و افسانہ نگار ناصر عباس نیر اور دہلی سے خالد جاوید نے ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو کی۔ نظامت کے فرائض انعام ندیم نے انجام دیئے۔ تقریب میں معروف ادبی، سماجی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ صدارتی خطبے میں معروف شاعرہ زہرا نگاہ نے کہا کہ میرے لیے آصف فرخی صرف ایک ادبی شخصیت نہیں تھے، بلکہ وہ اپنے ہی گھر کے فرد اور ایک چھوٹے بھائی کی طرح تھے۔ عید کے دن وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سب سے پہلے میرے گھر آتے، اور محبت و احترام کے اس رشتے کو ہمیشہ قائم رکھتے۔ مجھے ان کے ساتھ کئی یادگار لمحات گزارنے کا موقع ملا۔ خصوصاً لاہور سے فیصل آباد تک کا ایک سفر آج بھی میری یادوں میں محفوظ ہے، جہاں آصف فرخی اور انتظار حسین کے ساتھ ادب، شاعری، تاریخ اور ثقافت پر ہونے والی گفتگو نے اس سفر کو ناقابلِ فراموش بنا دیا۔آصف فرخی کی شخصیت محبت، علم، دوستی اور انسان دوستی کا حسین امتزاج تھی۔صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہا کہ آصف فرخی کو صرف افسانہ نگار، مترجم، مدیر یا پبلشر کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کی شخصیت ان تمام حوالوں سے کہیں بڑی تھی، اگر ان کی ادبی خدمات کو الگ الگ پرکھا جائے تو شاید تنقید کی گنجائش نکل آئے۔ انہوں نے معاشرے اور ادب پر جو اثر چھوڑا ہے اسے ٹکڑوں میں تقسیم کرکے نہیں سمجھا جا سکتا۔ عالمی اردو کانفرنس اور دیگر ادبی سرگرمیوں آصف فرخی ہمارے ساتھ رہے، وہ تنازعات سے دور رہنے والے انسان تھے۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ آصف فرخی اب ہمارے درمیان نہیں رہے تو شدید صدمہ ہوا۔ اردو ادب اور کراچی سے وابستگی اپنی جگہ، لیکن آصف فرخی کا اصل کارنامہ مختلف شہروں، زبانوں اور نسلوں کے ادیبوں کو ایک دوسرے سے جوڑنا تھا۔ انہوں نے ادب اور سماج پر جو گہرا اثر چھوڑا، وہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔دہلی سے خالد جاوید نے ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو میں کہا کہ آصف فرخی سے میرا تعلق صرف ادبی نہیں بلکہ خاندانی بھی تھا۔ پاکستان میں میری بیشتر تحریریں انہی کے ذریعے شائع ہوئیں۔انہوں نے نہ صرف میرے افسانے اپنے رسالوں میں شائع کیے بلکہ اپنے اشاعتی ادارے کے ذریعے بھی میرے کام کو فروغ دیا۔نقاد و افسانہ نگار ناصر عباس نیر نے کہا کہ آصف فرخی ایک کثیرالجہت شخصیت تھے۔ ادارت، ادبی میلوں کے انعقاد، تراجم، افسانہ نگاری اور تنقیدہر میدان میں ان کی خدمات غیرمعمولی تھیں۔ انہوں نے نہ صرف افسانے لکھے بلکہ عالمی ادب کے اہم تراجم بھی کیے۔ ان کے تراجم میں امریکی، لاطینی امریکی، یورپی، جنوبی ایشیائی اور پاکستانی ادب شامل ہے، جو ان کے وسیع مطالعے اور انتخابِ ادب کی بصیرت کا ثبوت ہیں۔ انتظار حسین اور ڈپٹی نذیر احمد پر ان کا کام اس فکری بصیرت کی نمایاں مثال ہے۔ معروف ادیبہ نور الہدیٰ نے کہا کہ میرے نزدیک آصف فرخی صرف اردو ادب کی شخصیت نہیں تھے بلکہ مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے درمیان ایک مضبوط پل تھے۔ انہوں نے سندھی اور اردو ادیبوں کو قریب لانے اور ادبی روایتوں کو ایک دوسرے سے متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا نام ہمیشہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔معروف فکشن نگار اخلاق احمد نے کہا کہ آصف فرخی سے میری دوستی نسبتاً دیر سے ہوئی، وہ صرف سنجیدہ ادیب نہیں بلکہ خوش مزاج، شگفتہ طبیعت اور دوستوں کی حوصلہ افزائی کرنے والے انسان بھی تھے۔ شاہ محمد پیرزادہ نے کہا کہ آصف فرخی کی زندگی کا اصل مرکز ادب تھا۔ انہیں سندھی ادب، خصوصاً جدید سندھی شاعری سے گہری دلچسپی تھی۔ہم نے مل کر سندھی شاعری کے انگریزی انتخاب پر بھی کام کیا، اگرچہ وہ منصوبہ شائع نہ ہو سکا۔ معروف صحافی پیرزادہ سلمان نے کہا کہ میری ادبی اور شعری شناخت کو سب سے پہلے سنجیدگی سے تسلیم کرنے والوں میں آصف فرخی شامل تھے۔ آصف فرخی نے میری شاعری سننے کے بعد کہا کہ تمہارا اصل مقام ادب اور شاعری ہے۔طارق اسلم نے کہا کہ آصف فرخی صرف میرے بڑے بھائی ہی نہیں تھے بلکہ میرے دوست، میرے استاد، میرے آئیڈیل، میرے رول ماڈل اور میرے مینٹور بھی تھے۔کتاب چاہے کتنی ہی ضخیم کیوں نہ ہو، وہ اسے غیر معمولی تیزی اور یکسوئی کے ساتھ پڑھ لیتے تھے۔ان کی مطالعے کی رفتار حیران کن تھی۔ اقبال خورشید نے کہا کہ آصف فرخی ہماری ادبی دنیا کے نہایت اہم اور منفرد شخصیت تھے۔ کاشف رضا نے کہا کہ آصف فرخی نے بہت کم عمری میں ایسے تراجم کیے جو آج بھی معیار کی حیثیت رکھتے ہیں، جس میں ’’سدھارتھ‘‘شامل ہے، ان کے نزدیک اچھا ترجمہ وہ نہیں جو اصل سے بالکل بے نشان ہو جائے بلکہ وہ تھا جس میں اس زبان، تہذیب اور خطے کی خوشبو بھی محسوس ہو جہاں سے وہ ادب آیا ہے۔معروف شاعرہ عنبریں حسیب عنبر نے کہاکہ آصف فرخی صرف ذہین نہیں بلکہ ایک حقیقی صلاحیتوں کے مالک تھے، بطور افسانہ نگار ان کا کام آج بھی نئی نسل کو متاثر کر رہا ہے۔اعجاز کشف نے کہا کہ آصف نہایت سادہ اور منکسر المزاج انسان تھے، آصف فرخی کی شگفتہ مزاجی اور خوش اخلاقی ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا۔ حوری نورانی نے کہا کہ میرے والد آصف فرخی سے بے حد متاثر تھےجب قرت العین حیدر کراچی آئی ہوئی تھیں تو ہم ان سے ملنے گئے۔ آصف نے ان کا انٹرویو کیا جو بہت دلچسپ تھا۔ امینہ سید نے کہا کہ آصف فرخی نے کراچی لٹریچر فیسٹیول کو ایک کامیاب اور مقبول پلیٹ فارم بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔انتظار حسین اور فہمیدہ ریاض جیسے ادیبوں کے ساتھ ان کی وابستگی اور خلوص ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو تھا۔ معروف شاعرہ ڈاکٹر فاطمہ حسن نے کہا کہ قدرت کا ایک عجیب انتظام یہ بھی ہے کہ آج جس لائبریری میں ہم بیٹھے ہیں، وہاں یوسفی صاحب اور آصف فرخی، دونوں کی ہزاروں کتابیں محفوظ ہیں، احمد شاہ کی کاوش سے قائم ہونے والی یہ لائبریری اب ان اہلِ علم کی یادوں کا گھر بن چکی ہے۔افضال احمد سید نے کہا کہ عام طور پر کسی کے جانے کا غم وقت کے ساتھ کم ہو جاتا ہے لیکن آصف فرخی کی یاد میرے لیے وقت کے ساتھ اور گہری ہوتی گئی، آصف فرخی کی سب سے بڑی ادبی پہچان ان کی کہانی نویسی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں