پورا کشمیر پاکستان سے الحاق کرے گا، کشمیری عوام اپنے تاریخی مؤقف سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے: رانا عزیز الحسن

کراچی (اسٹاف رپورٹر) آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس سندھ سرکل کراچی کے صدر رانا عزیز الحسن کی جانب سے مقامی ہوٹل میں کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر کے کنوینئر غلام محمد صفی اور دیگر حریت رہنماؤں کے اعزاز میں ایک پروقار عشائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب میں مسلم لیگ (ن) سندھ کے صدر بشیر میمن، کل جماعتی حریت کانفرنس کے جنرل سیکریٹری پرویز شاہ، سیکریٹری اطلاعات امتیاز وانی، سینئر حریت رہنما شیخ عبدالمجید، شیخ عبدالمتین، زاہد صفی، مسلم لیگ (ن) کراچی کے صدر زاہدشاہ میر خان، معروف مصنف بشیر سدوزئی، سینئر صحافی لیاقت کشمیری سمیت سیاسی، سماجی اور کشمیری رہنماؤں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رانا عزیز الحسن نے کہا کہ 1993ء میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی کشمیری قیادت نے تحریک آزادی کشمیر کو متحد اور منظم کرنے کے لیے کل جماعتی حریت کانفرنس کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس نے کشمیری عوام کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا اور آزادی کی جدوجہد میں بے مثال قربانیاں پیش کیں، جن کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری پاکستانی قوم حریت کانفرنس کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہو اور تحریک آزادی کشمیر کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت اپنے مؤقف پر آج بھی قائم ہے، جبکہ پاکستان میں مختلف ادوار کے دوران کشمیر پالیسی میں تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔ تاہم کشمیری عوام کا مؤقف آج بھی وہی ہے کہ ”کشمیر بنے گا پاکستان”۔کل جماعتی کانفرنس نے ہمیشہ پاکستانی اور کشمیری عوام کو جوڑے رکھنے میں ایک پل کا کردار اد کیا ہے رانا عزیز الحسن نے کہا کہ مسلم کانفرنس وہ پہلی جماعت ہے جس نے 1946ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان سے الحاق کی حمایت کی، جبکہ 19 جولائی 1947ء کو کشمیری قیادت نے الحاقِ پاکستان کی تاریخی قرارداد منظور کی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اپنے اس تاریخی فیصلے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، خواہ اس کے لیے مزید کئی نسلوں تک قربانیاں ہی کیوں نہ دینی پڑیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی مختلف جیلوں میں ہزاروں کشمیری پابندِ سلاسل ہیں، جن میں حریت رہنما آسیہ اندرابی سمیت متعدد خواتین اور سیاسی کارکن شامل ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری قیدیوں کی رہائی اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لینے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔رانا عزیز الحسن نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے موجودہ سیاسی حالات بھی فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر اور آزاد کشمیر سے متعلق معاملات کو قومی ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق پیش رفت یقینی بنائی جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں