جماعت اسلامی کا مہنگے پیٹرول کیخلاف 10 جولائی کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں کمی نہ کرنے پر 10 جولائی کو ملک گیر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کردیا۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پہلے بھی احتجاج کے باعث ہی حکومت نے پٹرول کی قیمتیں کم کیں، عوام قیمتیں مزید کم کرانے کے لیے جمعہ کو سڑکوں پر نکلیں، پٹرول کی قیمت کسی صورت 225 روپے سے زائد نہیں ہونی چاہئے۔ آج بھی پٹرول پرلیوی سمیت 118 روپے سے زائد ٹیکس لیا جا رہا ہے، ایل پی جی کی قیمت 241 مقرر ہے لیکن مارکیٹ میں 500 روپے فی کلو مل رہی ہے، عوام کے مسائل کے لیے سڑکوں پر آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ لیوی بھتہ خوری ہے اسے فوری ختم ہونا چاہئے، پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا مقصد ریفائنریز کی بہتری تھا، حکومت نے لیوی کے اربوں جمع کیے، ریفائنریز میں بہتری نہ آئی، غریبوں، مڈل کلاس، عام لوگوں سے بھتہ ٹیکس لیا جا رہا ہے، طالبعلم، مزدور موٹرسائیکل چلانے والوں سے لیوی لی جا رہی ہے، مڈل کلاس 800 یا 1000 سی سی کی گاڑیاں چلاتے ہیں، جن پر ٹیکس لاگو نہیں ہوتا ان سے ٹیکس لیا جا رہا ہے مگر بڑے بڑے جاگیرداروں سے ٹیکس نہیں لیا جا رہا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک کو چلانے کے لیے حکومت کے پاس کوئی پالیسی نہیں ہے، حکومت کے پاس ذخائر کو استعمال کرنے کے وسائل بھی نہیں ہیں، حکومت تیل اور معدنی ذخائر دریافت کرنے میں ناکام ہو رہی ہے، پاک ایران گیس پائپ لائن پر بالکل کام نہیں ہو رہا، یہ برسوں سے پینڈنگ ہے جس پر اب فوری کام ہونا چاہئے، جنگ بندی پر پہلا کام ایران سے تجارت کھلنی چاہئے، ایران نے گیس پائپ لائن پر اپنے حصے کا کام مکمل کر رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں 13 سو ارب روپے کی سالانہ کرپشن ہوتی ہے، ایف بی آر کے 25 ہزار ملازمین اپنے اہداف پورے نہیں کرتے، ایف بی آر کی لوٹ مار کا بوجھ عوام پر پڑ رہا ہے، پنجاب حکومت اسکیموں کے ذریعے عوام کو بے وقوف بنا رہی ہے، یہ چند لوگوں کو سہولیات دیتے ہیں، باقی افراد کا نہیں سوچتے، ملک اسکیموں سے نہیں پالیسی سے چلتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں