اگر آپ کو دنیا کے کسی ایسے شہر میں رہنے کا موقع ملے جہاں بہترین صحت، معیاری تعلیم، جدید ٹرانسپورٹ، صاف ماحول اور پُرامن زندگی میسر ہو تو آپ کس شہر کا انتخاب کریں گے؟
اس سوال کا جواب اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کی تازہ گلوبل لیویبلٹی انڈیکس 2026 رپورٹ نے دے دیا ہے جس میں دنیا کے 173 شہروں کا معیارِ زندگی نہایت باریکی سے جانچا گیا۔
ایک بار پھر ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن نے مسلسل دوسرے سال بھی میدان مار لیا اور دنیا کا سب سے بہترین شہر قرار پایا۔ اس شہر نے استحکام، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے میں مکمل نمبر حاصل کیے جبکہ ثقافت اور ماحول کے شعبوں میں بھی نمایاں کارکردگی دکھائی۔
کوپن ہیگن کے بعد فہرست میں دوسرے نمبر پر آسٹریا کے ویانا، پھر آسٹریلیا کے میلبورن تیسرے اور سڈنی چوتھے نمبر پر براجمان ہیں جب کہ سوئٹزرلینڈ کا زیورخ پانچویں نمبر پر رہے۔
اس کے بعد 6 سے 10 دسویں نمبر تک بالترتیب جنیوا (سوئٹزرلینڈ)، اوساکا (جاپان)، ایڈیلیڈ (آسٹریلیا)، وینکوور (کینیڈا) اور ٹوکیو (جاپان) کا نمبر آتا ہے۔
اس رپورٹ کے لیے مختلف شہروں کے رہائشیوں سے بھی گفتگو کی گئی۔ کوپن ہیگن کے رہائشیوں کا کہنا تھا کہ یہاں سائیکل چلانا روزمرہ زندگی کا حصہ ہے لوگ کام کے بعد سمندر میں تیراکی کرتے ہیں اور چند ہی منٹوں میں گھر پہنچ جاتے ہیں۔
ویانا کے رہائشیوں نے بہترین پبلک ٹرانسپورٹ، پُرسکون طرزِ زندگی اور تاریخی حسن کو اپنی پہچان قرار دیا، جبکہ میلبورن کے شہریوں نے مختلف ثقافتوں، کیفے کلچر، آرٹ اور موسیقی کو اپنی زندگی کا اہم حصہ بتایا۔
سڈنی کے رہائشیوں کے مطابق سمندر، ساحل، فطرت اور کثیرالثقافتی ماحول اس شہر کو دنیا کے منفرد ترین شہروں میں شامل کرتے ہیں، جبکہ زیورخ کے شہری صاف پانی، جھیلوں، دریا اور غیرمعمولی صفائی کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا حسن قرار دیتے ہیں۔
پاکستان، بھارت اور بنگلادیش کا کیا مقام رہا؟
رپورٹ کے مطابق پاکستان، بھارت اور بنگلادیش کا کوئی بھی شہر دنیا کے ٹاپ 10 بہترین شہروں میں تو شامل نہیں ہو سکا۔ کراچی کا نمبر مسلسل دوسری بار 170 رہا۔ اس کے بعد ڈھاکا 171، طرابلس 172 اور شام آخری نمبر یعنی 173ویں نمبر پر ہے۔
اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کی مکمل درجہ بندی میں جنوبی ایشیا کے شہروں کی کارکردگی نسبتاً کم رہی، جس کی بڑی وجوہات سیاسی و معاشی استحکام، صحت، بنیادی ڈھانچے، ماحولیاتی معیار اور شہری سہولیات میں موجود چیلنجز کو قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ کسی شہر کو صرف بلند و بالا عمارتیں نہیں بلکہ محفوظ ماحول، معیاری صحت و تعلیم، مؤثر ٹرانسپورٹ، صاف فضا اور بہتر شہری سہولیات ہی رہنے کے لیے بہترین مقام بناتی ہیں۔

