نیٹو سے مایوس ہوں، ایران پر ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں تھی، ترکیہ دوست ہے؛ ٹرمپ

استنبول میں نیٹو اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ترک ہم منصب طیب اردوان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں دفاعی تعاون، ایف 35 طیاروں، ایران اور غزہ پر کھل کر گفتگو کی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا اور ترکیہ کے درمیان تعلقات انتہائی مضبوط ہیں۔ ایف-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت کے بارے میں فیصلہ جلد کیا جائے گا۔

اس موقع پر ترک صدر طیب اردوان نے بھی امید ظاہر کی کہ ایف-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کی خریداری کے معاملے میں نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران مثبت پیش رفت ہوگی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ترکیہ امریکا کا ایک قابلِ اعتماد اور وفادار اتحادی ہے، اسی لیے بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ اسے ایف-35 طیارے کیوں نہ دیے جائیں۔ اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ وہ ترک صدر طیب اردوان کے ساتھ تجارت اور دفاعی تعاون سمیت مختلف امور پر بات چیت کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے ترک صدر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ دنیا بھر میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جانے والے رہنما ہیں اور ان کی قیادت میں ترکی کی فوجی طاقت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ایف-35 طیاروں کی فروخت سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ اس حوالے سے فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے، تاہم امریکا اور ترکی کے درمیان بہترین تعلقات موجود ہیں۔

دوسری جانب صدر اردوان نے کہا کہ ایف-35 پروگرام کا معاملہ کوئی نیا نہیں اس پر دونوں ممالک کے درمیان کئی بار بات چیت ہو چکی ہے۔

ان کے بقول امریکا نے ترکیہ کو پانچ ایف-35 طیارے فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور امید ہے کہ نیٹو اجلاس سے اس حوالے سے مثبت فیصلہ سامنے آئے گا۔

ایران اور امریکا کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ انقرہ دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے اور اختلافات کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ترکیہ عالمی امن کے فروغ کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔

غزہ کی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے طیب اردوان نے کہا کہ ترکیہ اس خطے میں امن کی بحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نیٹو اجلاس میں بھی مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور غزہ کے معاملے پر توجہ دی جا رہی ہے اور انہیں امید ہے کہ اس حوالے سے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

ادھر صدر ٹرمپ نے نیٹو اتحاد پر ایک بار پھر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی کارروائی کے دوران اتحادی ممالک نے ہمارا ساتھ نہیں دیا۔

انھوں نے سوال اٹھایا کہ جب امریکا اپنے اتحادیوں کے لیے ہمیشہ موجود رہتا ہے تو پھر ایسے مواقع پر نیٹو ممالک امریکا کی حمایت کیوں نہیں کرتے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا اتحادیوں پر سیکڑوں ارب ڈالر خرچ کرتا ہے اس کے باوجود انہیں مطلوبہ تعاون نہیں ملتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں