بھاگ (رپورٹر) ڈسٹرکٹ وائس چیئرمین کچھی میر محمد اقبال سولنگی نے وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے سیلاب متاثرین کے گھروں کی تعمیر کے لیے مختص فنڈز کو انفراسٹرکچر، سڑکوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں میں منتقل کرنے کے فیصلے پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے بلوچستان کے سیلاب متاثرین کے ساتھ ناانصافی اور عوام دشمن اقدام قرار دیا ہے۔اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ترقی فاؤنڈیشن اور دیگر اداروں کے ذریعے جاری ہاؤسنگ منصوبے کے فنڈز کو دیگر ترقیاتی منصوبوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ انتہائی افسوسناک ہے۔ اس فیصلے سے ہزاروں ایسے خاندان شدید متاثر ہوں گے جو 2022ء کے تباہ کن سیلاب میں اپنے گھروں اور زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو گئے تھے۔میر محمد اقبال سولنگی نے کہا کہ 2022ء کے سیلاب نے پورے بلوچستان میں تباہی مچائی، تاہم ضلع کچھی، بالخصوص تحصیل بھاگ، سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل تھا۔ متاثرہ خاندان گزشتہ کئی برسوں سے مستقل چھت کے منتظر تھے۔ HRU-IFRAP ہاؤسنگ منصوبے کے آغاز سے متاثرین میں امید کی نئی کرن پیدا ہوئی تھی اور گھروں کی تعمیر کا کام بھی تیزی سے جاری تھا، لیکن اب فنڈز کی منتقلی کے فیصلے نے عوام کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ دیگر صوبوں میں اسی منصوبے کے تحت گھروں کی تعمیر کا عمل بدستور جاری ہے، جبکہ بلوچستان میں ابھی دس فیصد کام بھی مکمل نہیں ہو سکا تھا کہ حکومت نے فنڈز کا رخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ اقدام سیلاب متاثرین کو دوبارہ بے یار و مددگار چھوڑنے کے مترادف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان پہلے ہی ملک کا سب سے پسماندہ صوبہ ہے، جہاں ہزاروں خاندان آج بھی عارضی رہائش گاہوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسے حالات میں گھروں کی تعمیر کے لیے مختص فنڈز کو کسی اور منصوبے پر خرچ کرنا کسی بھی صورت عوامی مفاد میں نہیں بلکہ متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے برابر ہے.ڈسٹرکٹ وائس چیئرمین کچھی نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلے پر فوری نظرثانی کریں، سیلاب متاثرین کے گھروں کی تعمیر کے لیے مختص فنڈز بحال رکھیں اور ہاؤسنگ منصوبے کو بلا تعطل جاری رکھا جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو ان کا حق مل سکے اور ان کے اپنے گھر کا خواب حقیقت کا روپ دھار سکے۔

