کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ آٹے کی امدادی قیمت وفاق کی ہدایت پر طے کی جس کی وجہ سے آٹے کا بحران پیدا ہوا ہے، امدادی قمیت کم ہونے کی وجہ سے کم خریداری ہوئی۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ذخیرہ اندوزوں سے قانون کے مطابق گندم خریدی جائے گی، ذخیرہ اندوزوں سے گندم 3ہزار روپے فی من کے حساب سے خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سیہد مراد علی شاہ نے کہا کہ وزیراعظم بھی آٹے اور گندم بحران پر اجلاس کر رہے ہیں، سندھ حکومت کو گندم خریداری کو ریگولیٹ نہیں کرنا چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سندھ میں کیٹی بند پر نئی بندرگاہ بنے گی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمارا ملک دہشت گردی لہر کی زد میں ہے اور دہشت گردوں کا ہدف کراچی ہے، ہم کراچی کے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، دہشت گردوں کو سر اٹھانے نہیں دیں گے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں صورت حال پر بہت تفصیلی بات ہوئی ہے، بلوچستان کے لوگ اور عوام پاکستان سے مخلص ہیں۔
قبل ازیں، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے انڈونیشیا پاکستان سرمایہ کاری اور تجارتی فورم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انڈونیشیا پاکستان کے اہم ترین شراکت داروں میں سے ایک ہے، پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان باہمی احترام، ثقافتی قربت اور باہمی تعاون کا دیرینہ اور مضبوط رشتہ قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا ہمیشہ سے ہی علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے آرہے ہیں، پاک انڈونیشیا دوستی وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے جبکہ مستحکم معاشی اور تجارتی شراکت داری سے تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچائیں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ پاکستان کی معیشت کا محرک ہے، اور کراچی ملک کا مالیاتی اور تجارتی مرکز ہے۔ سندھ کا قومی محصولات، صنعتی پیدوار، برآمدات اور سرمایہ کاری میں نمایاں کرادار ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ پاکستان کا بندرگاہی صوبہ ہے۔ صوبے میں وسیع صنعتی زونز، جدید مالیاتی ادارے اوربہترین کاروباری ماحول موجود ہے۔ سندھ حکومت ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری میں دوست ماحول فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ سندھ حکومت نے سرمایہ کاری سہولت، انفرا اسٹرکچر کی جدیدیت، ڈیجیٹل خدمات اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے اصلاحات متعارف کروائی ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (CEPA) کو فروغ کے حوالے سے مذاکرات کو سراہتا ہوں، معاہدہ دونوں دوست ممالک کے درمیان معاشی انضمام کو مزید رتقویت فراہم کرے گا، بزنس ٹو بزنس روابط بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے فورم کے اختتام پر انڈونیشیا کے قونصل خانے، فورم کے منتظمین اور تمام شرکاء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

