بلوچستان: سیاست، ریاست اور عوام — کیا مسائل کا حل صرف حکومتوں کی تبدیلی میں ہے؟

کراچی: آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام نامور شاعرہ، ادیبہ اور دانشور فہمیدہ ریاض کی 80 ویں سالگرہ کی مناسبت سے ’’بیادِ فہمیدہ ریاض‘‘ کے عنوان سے خصوصی تقریب جوش ملیح آبادی لائبریری میں منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت ملک کی ممتاز شاعرہ زہرا نگاہ نے کی جبکہ صدر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی محمد احمد شاہ نے خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں معروف ادیبہ و شاعرہ ڈاکٹر فاطمہ حسن، مرتضیٰ سولنگی اور سینئرصحافی و شاعرفاضل جمیلی نے فہمیدہ ریاض کی ادبی، فکری اور سماجی خدمات پر اظہارِ خیال کیا جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر نے انجام دیے۔ اس موقع پر فہمیدہ ریاض کی شاعری، نثر، فکری بصیرت، آزادیٔ اظہار کے لیے ان کی جدوجہد اور اردو ادب میں ان کی گراں قدر خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اہلِ ادب، شعرا، ادبا، دانشوروں، طلبہ اور ادب سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔ بعد ازاں فہمیدہ ریاض کی 80 ویں سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا۔صدارتی خطاب میں زہرا نگاہ نے کہا کہ فہمیدہ ریاض کی شاعری میں ذاتی اور اجتماعی دکھ اس سلیقے سے سمٹ آتے ہیں کہ وہ قاری کو اپنے ساتھ جوڑ لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فہمیدہ ریاض کی کلیات ابتدا سے آخر تک یکساں تخلیقی توانائی کی حامل ہیں اور ان کی شاعری تہذیبی شعور، انسانی درد اور فکری وقار کا روشن استعارہ ہے۔ ان کے بقول فہمیدہ ریاض نئی نسل کی شاعرات کے لیے ایک روشن مشعل تھیں، جن کی ادبی میراث آئندہ نسلوں کی رہنمائی کرتی رہے گی۔ صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہا کہ فہمیدہ ریاض اپنے عہد کی بے باک اور جرأت مند شاعرہ تھیں جنہوں نے فرسودہ سماجی رویوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ فہمیدہ ریاض نے ہمیشہ سچ کا ساتھ دیا، جبر کے خلاف آواز بلند کی اور اپنی مشہور نظم ’’تم اپنی کرنی کر گزرو‘‘ کی طرح اپنی زندگی بھی اپنے اصولوں کے مطابق گزاری۔ انہوں نے کہا کہ فہمیدہ ریاض کو یاد کرنا دراصل اس عہد، اس کے جبر اور اس کے خلاف اٹھنے والی مزاحمتی آوازوں کو یاد کرنا ہے۔سینیئر صحافی اور صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی نے فہمیدہ ریاض سے اپنی پہلی ملاقات کا ایک یادگار واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ کراچی آئے تو شاعر و افسانہ نگار ایاز ابڑو کے ساتھ انتہائی کسمپرسی کے دن گزار رہے تھے۔ ایک موقع پر جب ان کے پاس کھانے کے لیے بھی پیسے نہیں تھے تو وہ فہمیدہ ریاض کے دفتر پہنچے۔ فہمیدہ ریاض نے نہ صرف ان کی دلجوئی کی بلکہ ان کے لیے کھانے کا انتظام کیا، مالی مدد فراہم کی اور شفقت سے حوصلہ افزائی بھی کی۔ مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ فہمیدہ ریاض صرف ایک عظیم شاعرہ ہی نہیں بلکہ نہایت شفیق، سخی اور انسان دوست شخصیت بھی تھیں، جن کی محبت، دریا دلی اور خلوص ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔معروف شاعر و صحافی فاضل جمیلی نے کہا کہ فہمیدہ ریاض کی شاعری عشق، آزادی، مزاحمت اور انسانی احساسات کی ترجمان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پسند تحریک سے وابستگی نے ان کے فکری سفر کو وسعت دی اور ان کی تخلیقات میں سماجی اور سیاسی شعور نمایاں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فہمیدہ ریاض نے عورت کے باطن، اس کے شعور اور اس کی شناخت کو اردو شاعری میں نئی جہت عطا کی، جبکہ فارسی ادب، فروغ فرخ زاد اور مولانا روم سے ان کی وابستگی نے ان کے تخلیقی افق کو مزید وسعت بخشی۔ معروف شاعرہ ڈاکٹر فاطمہ حسن نے کہا کہ فہمیدہ ریاض ایک باشعور، ترقی پسند اور جرأت مند ادیبہ تھیں جنہوں نے ادب کو معاشرتی شعور اور فکری بیداری کا ذریعہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ فہمیدہ ریاض نے اپنی شاعری اور عملی جدوجہد کے ذریعے خواتین کے حقوق، سماجی انصاف اور فکری آزادی کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا، جبکہ ان کی شخصیت اور فکر نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر نے کہا کہ فہمیدہ ریاض نے عورت کے وجود، شناخت، جسم اور روح سے متعلق سوالات کو نہایت جرأت اور وقار کے ساتھ اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ انہوں نے کہا کہ فہمیدہ ریاض نے خواتین کے مسائل کے ساتھ ساتھ سیاسی، سماجی اور فکری موضوعات پر بھی گہری نظر رکھی، جبکہ ان کی شاعری میں سندھی تہذیب، مقامی لفظیات اور عالمی شعور کا حسین امتزاج دکھائی دیتا ہے، جو انہیں اپنی ہم عصر شاعرات میں منفرد مقام عطا کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں