علامہ ابتسام الہٰی ظہیر
پوری انسانیت جس نکتے پر مجتمع ہے وہ غم اور پریشانیوں سے نجات حاصل کر کے ایک پُرامن زندگی گزارنا ہے۔ بہت سے لوگ اس حوالے سے اپنی بساط اور صلاحیتوں کے مطابق کوشاں رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود غم اور پریشانیوں سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔ بہت سے ذہین اور باصلاحیت لوگ اس حد تک غمگین اور دکھی رہتے ہیں کہ رات کو سونے کیلئے سکون آور ادویات کا استعمال کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود پُرسکون اور راحت بھری نیند سے محروم رہتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو کسی حادثے‘ تکلیف‘ بیماری یا نقصان کی وجہ سے غم کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ اس کے بالمقابل بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو کسی نقصان‘ بیماری اور حادثے کے بغیر ہی نفسیاتی مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ بہت سے لوگ مختلف ماہرین نفسیات اور ذہنی بیماریوں کے معالجین سے رجوع کرتے اور ان کی ہدایات پر عمل کرنے کی کوششیں کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کو امن اور سکو ن حاصل نہیں ہوتا۔ کتاب و سنت نے اس حوالے سے نہایت مؤثر انداز میں رہنمائی کی اور غم سے نجات کے بہت سے طریقے بتلائے ہیں‘ جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
1۔ دعا: اگر انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں آ کر دعا کرے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے غموں کو دور فرماتے ہیں۔ سورۃ النمل کی آیت: 62 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”بے کس کی پکار کو جب کہ وہ پکارے، کون قبول کر کے سختی کو دور کر دیتا ہے؟ اور تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے، کیا اللہ کے ساتھ اور معبود ہے؟ تم بہت کم نصیحت و عبرت حاصل کرتے ہو‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ البقرہ کی آیت: 186 میں ارشاد فرمایا: ”جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں، ہر پکارنے والے کی پکار کو جب بھی وہ مجھے پکارے قبول کرتا ہوں، اس لیے لوگوں کو بھی چاہیے وہ میری بات مان لیں اور مجھ پر ایمان رکھیں، یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے کو بیان کیا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے غم کو دور کیا اور اس بات کو واضح کیا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ایسے ہی اہلِ ایمان کے غموں کو بھی دور فرماتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الانبیاء کی آیات: 87 تا 88 میں اس واقعے کو کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: ”مچھلی والے (یونس علیہ السلام) کو یاد کرو! جبکہ وہ غصہ سے چل دیا اور خیال کیا کہ ہم اسے نہ پکڑ سکیں گے۔ بالآخر وہ اندھیروں کے اندر سے پکار اٹھا کہ الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تُو پاک ہے، بیشک میں ظالموں میں ہو گیا۔ تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات دے دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح بچا لیا کرتے ہیں‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الانبیاء ہی میں حضرت ایوب علیہ السلام کی ایک تکلیف دہ بیماری کے خاتمے کا ذکر کیا اور اس کو اپنے بندوں کیلئے ایک نصیحت قرار دیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الانبیاء کی آیات: 83 تا 84 میں ارشاد فرماتے ہیں: ”ایوب کی اس حالت کو یاد کرو جبکہ اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تُو رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ تو ہم نے اس کی سن لی اور جو دکھ انہیں تھا اسے دور کر دیا اور اس کو اہل و عیال عطا فرمائے بلکہ ان کے ساتھ ویسے ہی اور‘ اپنی خاص مہربانی سے تاکہ سچے بندوں کیلئے سببِ نصیحت ہو‘‘۔
2۔ ذکرِ الٰہی: جب انسان مشکلات‘ مصائب‘ تکالیف اور پریشانیوں کے دوران کثر ت سے اللہ کا ذکر کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی مشکلات کو دور فرما دیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الاحزاب کی آیات: 41 تا 43 میں ارشاد فرماتے ہیں: ”مسلمانو! اللہ کا ذکر بہت زیادہ کرو۔ اور صبح شام اس کی پاکیزگی بیان کرو۔ وہی ہے جو تم پر اپنی رحمتیں بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے (تمہارے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں) تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لے جائے اور اللہ مومنوں پر بہت ہی مہربان ہے‘‘۔
3۔ تقویٰ: جب انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کی خشیت کی وجہ سے اپنے آپ کو گناہوں سے روک لیتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کی تنگیوں کو دور فرما دیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الطلاق کی آیت: 2 میں فرماتے ہیں: ”اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے (مصیبت سے) چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے‘‘۔
4۔ توکل: جو شخص اللہ تبارک وتعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ اس کیلئے کافی ہو جاتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الطلاق کی آیت: 3 میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا، اللہ اپنا کام پورا کر کے ہی رہے گا، اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے‘‘۔ امام ابن قیم نے اپنی کتاب زاد المعاد میں توکل‘ دعا‘ ذکر اور روحانی اسباب کے علاج پر تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ ان کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ ”دل کا اللہ پر مکمل اعتماد‘ سچا توکل‘ اس کی طرف رجوع اور اس سے مدد طلب کرنا ایسے اسباب ہیں جن سے بہت سی بیماریاں دور ہو جاتی ہیں بلکہ بعض اوقات ان کا اثر ظاہری دوائوں سے بھی بڑھ جاتا ہے‘‘۔ امام ابن قیمؒ نے یہاں مادی علاج کی نفی نہیں کی بلکہ توکل کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
5۔ صبر: انسان زندگی بھر مشکلات کا شکار رہتا ہے۔ ان سے نجات حاصل کرنے کیلئے صبر کی بھی غیر معمولی اہمیت ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ صبر کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے سورۃ البقرہ کی آیات: 155 تا 157 میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے‘ دشمن کے ڈر سے‘ بھوک پیاس سے‘ مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے۔ جنہیں جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں‘‘۔
6۔ انفاق فی سبیل اللہ: جب انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کے راستے میں اپنے مال کو صبح و شام‘ خفیہ اور اعلانیہ طور پر خرچ کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے غم اور خوف کو دور فرما دیتے ہیں۔ سورۃ البقرہ کی آیت: 274 میں ارشاد ہوا: ”جو لوگ اپنے مالوں کو رات دن چھپے کھلے خرچ کرتے ہیں ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے اور نہ انہیں خوف ہے اور نہ غم‘‘۔
7۔ توبہ: انسان کی زندگی میں آنے والی بہت سی مشکلات کا تعلق اس کے گناہوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الشوریٰ کی آیت: 30 میں ارشاد فرماتے ہیں: ”تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے اور وہ تو (تمہارے) بہت سے گناہ معاف کر دیتا ہے‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الروم کی آیت: 41 میں ارشاد فرماتے ہیں: ”خشکی اور تری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا‘‘۔ جب انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کا طلبگار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی سب خطائوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔ سورۃ الزمر کی آیت: 53 میں ارشاد ہوا: ”(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جائو، بالیقین اللہ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الفرقان میں بتلایا کہ شرک‘ قتل اور زنا کے مرتکبین کو سنگین عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا مگر ساتھ ہی فرمایا: مگر جو توبہ کرے گا اللہ تعالیٰ کبیرہ گناہوں پر کی جانے والی اس توبہ پر گناہوں کو معاف ہی نہیں فرماتے بلکہ گناہوں کو نیکیوں کے ساتھ تبدیل کر دیتے ہیں۔
اگر مذکورہ بالا تدابیر کو اختیار کر لیا جائے تو اللہ تبارک وتعالیٰ انسانوں کے جملہ غم دور کر دیتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام انسانوں کے غموں کو دور فرما کر انہیں امن و سکون والی زندگی عطا فرما دے، آمین!
Load/Hide Comments

