(کالم: سانچ)
تحریر: محمد مظہر رشید چودھری (03336963372)
کسی بھی شہر کی ترقی کا اندازہ اس کی بلند و بالا عمارتوں سے نہیں بلکہ اس کے مضبوط بنیادی ڈھانچے، مؤثر سیوریج نظام، بہتر نکاسی آب، صاف ستھری سڑکوں اور شہری سہولیات سے لگایا جاتا ہے۔ اوکاڑہ، جو پنجاب کے اہم زرعی اور تجارتی شہروں میں شمار ہوتا ہے، کئی برسوں سے بارش کے دوران پانی جمع ہونے، خستہ حال سیوریج، ٹوٹی سڑکوں اور بڑھتی ہوئی شہری آبادی کے مسائل سے دوچار رہا ہے۔ انہی دیرینہ مسائل کے مستقل حل کے لیے پنجاب حکومت نے پنجاب ڈیولپمنٹ پروگرام (PDP) اور پنجاب سٹیز پروگرام (PCP) کے تحت 8 ارب 91 کروڑ 80 لاکھ روپے سے زائد لاگت کا ایک میگا ترقیاتی منصوبہ شروع کیا ہے، جسے اوکاڑہ کی تاریخ کے اہم ترین شہری ترقیاتی منصوبوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔یہ منصوبہ صرف نئی سڑکیں بنانے یا سیوریج لائنیں بچھانے تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد شہر کے بنیادی ڈھانچے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ منصوبے کے تحت 14 یونین کونسلوں میں واقع تقریباً 30 مربع کلومیٹر شہری علاقے میں ترقیاتی کام جاری ہیں، جن سے تقریباً 5 لاکھ 48 ہزار شہری براہ راست مستفید ہوں گے۔ اگر یہ منصوبہ اپنے مقررہ معیار اور مدت کے مطابق مکمل ہو جاتا ہے تو اوکاڑہ کے شہریوں کو بہتر نکاسی آب، صاف ماحول، مضبوط سڑکیں اور جدید شہری سہولیات میسر آ سکیں گی۔منصوبے کے مالی پہلو پر نظر ڈالیں تو پنجاب ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت تقریباً 6 ارب 96 کروڑ 56 لاکھ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جبکہ پنجاب سٹیز پروگرام کے تحت 1 ارب 95 کروڑ 24 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ جدید ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ پر بھی 1 ارب 88 کروڑ 69 لاکھ روپے خرچ کیے جائیں گے تاکہ سیوریج کے پانی کو صاف کر کے ماحول دوست انداز میں خارج کیا جا سکے۔ یہ اقدام نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ مستقبل میں پانی کے بہتر انتظام کی بنیاد بھی فراہم کرے گا۔منصوبے کے تحت شہر بھر میں جدید سیوریج لائنیں بچھائی جا رہی ہیں، جبکہ بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے الگ نظام بنایا جا رہا ہے تاکہ مون سون کے دوران سڑکیں، بازار اور رہائشی علاقے زیر آب نہ آئیں۔ اسی مقصد کے لیے 710 ملی میٹر قطر کا تقریباً 8500 فٹ طویل HDPE فورس مین بچھایا جا رہا ہے، جو بارش اور سیوریج کے پانی کو ڈسپوزل اسٹیشن تک منتقل کرے گا۔ اس کے علاوہ ایک جدید زیر زمین واٹر اسٹوریج ٹینک بھی تعمیر کیا جا رہا ہے، جہاں شدید بارش کے دوران اضافی پانی عارضی طور پر محفوظ کیا جا سکے گا۔منصوبے میں صرف سیوریج اور نکاسی آب ہی شامل نہیں بلکہ شہر کی سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر و بحالی، ٹف ٹائلوں کی تنصیب، مختلف علاقوں کی خوبصورتی، کھلے مین ہولز پر حفاظتی جالیاں لگانے اور جدید صفائی مشینری کی فراہمی بھی شامل ہے۔ ڈمپ ٹرک، بیک ہو ٹریکٹر، ٹریکٹر ٹرالی، لوڈر رکشہ اور دیگر جدید مشینری واسا کی استعداد کار میں اضافہ کرے گی، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر مجموعی طور پر 526 جدید مشینری یونٹس بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔یہ تمام اقدامات بلاشبہ خوش آئند ہیں، لیکن ہر بڑے عوامی منصوبے کی اصل کامیابی صرف اس کے حجم یا بجٹ سے نہیں بلکہ اس کے معیار اور شفافیت سے ناپی جاتی ہے۔ جب عوام کے ٹیکس سے حاصل ہونے والے اربوں روپے کسی منصوبے پر خرچ کیے جا رہے ہوں تو یہ ضروری ہے کہ ہر مرحلے پر بہترین معیار کو یقینی بنایا جائے۔ سیوریج لائنوں، پائپوں، سڑکوں، ٹف ٹائلوں، مین ہولز اور دیگر تعمیراتی کاموں میں اعلیٰ معیار کا میٹریل استعمال کیا جائے اور انجینئرنگ کے اصولوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ ہو۔اگر منصوبے میں معیاری تعمیراتی سامان استعمال کیا گیا، کام کی مؤثر نگرانی کی گئی اور شفافیت کو یقینی بنایا گیا تو اس کے فوائد کئی دہائیوں تک شہریوں کو حاصل ہوں گے۔ اس کے برعکس اگر ناقص میٹریل استعمال ہوا، معیار پر سمجھوتہ کیا گیا یا نگرانی میں کوتاہی برتی گئی تو نہ صرف منصوبے کی پائیداری متاثر ہو سکتی ہے بلکہ عوامی وسائل کے ضائع ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ اس لیے متعلقہ اداروں، انجینئرز، ٹھیکیداروں اور نگران اداروں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس منصوبے کو دیانت داری، شفافیت اور اعلیٰ معیار کے ساتھ مکمل کریں۔اس کے ساتھ ساتھ میڈیا، سول سوسائٹی، منتخب عوامی نمائندوں اور خود شہریوں کا بھی اہم کردار ہے۔ تعمیری تنقید، مؤثر نگرانی اور بروقت نشاندہی سے نہ صرف منصوبے کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب عوام کو یہ یقین ہو کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ واقعی ان کی فلاح و بہبود پر خرچ ہو رہا ہے۔اوکاڑہ کے لیے یہ منصوبہ ایک تاریخی موقع ہے۔ اگر یہ منصوبہ مقررہ وقت، اعلیٰ معیار اور مکمل شفافیت کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے تو شہر میں نہ صرف سیوریج، نکاسی آب اور ٹریفک کے مسائل میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ شہری انفراسٹرکچر، ماحولیات، صحت عامہ اور مجموعی معیارِ زندگی میں بھی مثبت تبدیلی آئے گی۔ اب سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ یہ اربوں روپے کا منصوبہ عملی طور پر اوکاڑہ کی ترقی کی نئی داستان رقم کرتا ہے یا نہیں۔ وقت ہی اس سوال کا حتمی جواب دے گا، لیکن ایک بات طے ہے کہ عوام کی توقعات اس منصوبے سے بہت وابستہ ہیں اور ان توقعات پر پورا اترنا متعلقہ اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے.

