از قلم خود: محمود رند
*صوبائی یوتھ اینڈ سپورٹس سیکریٹری، نیشنل پارٹی*
یہ تحریر لکھنے سے قبل میں نے اپنی طالب علمی کے زمانے کی ایک پرانی کتاب دوبارہ نکالی، جو Business Communication and Management کے موضوع پر تھی۔ اس کتاب میں قیادت (Leadership) کے بنیادی اصول، خصوصاً 7Cs of Leadership، نہایت جامع اور مدلل انداز میں بیان کیے گئے تھے۔ یونیورسٹی کے زمانے میں ہمارے قابلِ احترام استاد شہزاد انور صاحب ان اصولوں کو اس انداز سے پڑھاتے تھے کہ شاید اس وقت ہمیں ان کی گہرائی کا مکمل ادراک نہ تھا۔ اس وقت ہمارا مقصد صرف امتحان میں کامیابی حاصل کرنا تھا، لیکن عملی زندگی، سماجی خدمات، تنظیمی ذمہ داریوں اور سیاسی جدوجہد نے یہ احساس دلایا کہ کتابوں میں درج یہ اصول دراصل کامیاب قیادت، مضبوط تنظیم اور باوقار سیاست کی حقیقی بنیاد ہیں۔
میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ تحریر کسی کتاب کا ترجمہ نہیں بلکہ ان اصولوں کی اپنی فہم، عملی مشاہدات، سیاسی تجربات اور نظریاتی جدوجہد کی روشنی میں ایک تشریح ہے۔ ممکن ہے کہیں مفہوم کے اظہار میں کمی رہ گئی ہو، لیکن میری نیت صرف ایک سنجیدہ فکری اور سیاسی ہے، کیونکہ قوموں کی تعمیر صرف نعروں سے نہیں بلکہ فکر، اصول اور کردار سے ہوتی ہے۔
قیادت صرف عہدہ نہیں، ایک مقدس امانت ہے
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں قیادت کو اکثر صرف عہدے، اختیار، پروٹوکول یا طاقت کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقی قیادت ان تمام ظاہری چیزوں سے کہیں بلند مقام رکھتی ہے۔ عہدہ تو محض ایک انتظامی ذمہ داری ہے، جبکہ قیادت ایک اخلاقی، فکری اور نظریاتی امانت ہے۔
حقیقی رہنما وہ نہیں ہوتا جو لوگوں پر حکم چلائے بلکہ وہ ہوتا ہے جو لوگوں کے دلوں میں اعتماد پیدا کرے۔ وہ لوگوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے، اختلاف کو برداشت کرتا ہے، انصاف کو ترجیح دیتا ہے اور اپنے مفاد سے پہلے اجتماعی مفاد کو دیکھتا ہے۔
یہ اصول صرف سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں بلکہ ہر ادارے، ہر تنظیم، ہر تحریک اور ہر معاشرے پر یکساں ہوتے ہیں۔ خواہ کوئی سرکاری ادارے کا سربراہ ہو، سماجی تنظیم کا ذمہ دار ہو، تعلیمی ادارے کا منتظم ہو یا کسی سیاسی جماعت کا قائد، چائے وہ مرکزی، صوبائی یا ضلعی ہو، قیادت کا اصل معیار اس کا کردار، انصاف، دیانت اور عوام سے تعلق ہوتا ہے۔
سیاست کا مقصد اقتدار نہیں، نظریات کی سربلندی ہے
تاریخ گواہ ہے کہ وہ سیاست جو صرف اقتدار کے حصول کے لیے کی جائے، وقتی کامیابی تو حاصل کر سکتی ہے، لیکن دیرپا احترام اور عوامی اعتماد کبھی حاصل نہیں کر سکتی۔
حقیقی سیاست کا مقصد عوام کی خدمت، سماجی انصاف، آئینی بالادستی، جمہوری اقدار، قومی شعور اور اجتماعی ترقی ہے۔
سیاسی جماعتیں محض انتخابات جیتنے کے لیے وجود میں نہیں آتیں بلکہ وہ قوموں کی فکری تربیت، عوامی حقوق کے تحفظ، جمہوریت کے استحکام اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔
اسی لیے ایک سیاسی رہنما کا ہر فیصلہ صرف آج پر نہیں بلکہ آنے والے کل پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
قیادت کے سات سنہری اصول (7Cs of Leadership)
1۔ کردار (Character) قیادت کی پہلی شرط کردار ہر عظیم قیادت کی بنیاد ہے۔
اختیار، دولت، شہرت اور طاقت وقتی ہو سکتے ہیں، لیکن کردار ہمیشہ رہتا ہے۔
ایک رہنما کی اصل شناخت اس کی سچائی، دیانت، انصاف، اصول پسندی، تحمل، عاجزی، وعدے کی پاسداری اور خود احتسابی سے ہوتی ہے۔
کردار سے محروم قیادت وقتی کامیابیاں حاصل کر سکتی ہے، لیکن وہ تاریخ میں عزت اور عوام کے دلوں میں مستقل جگہ نہیں بنا سکتی۔
2۔ قابلیت (Competence) علم اور تدبر کے بغیر قیادت اُدھوری ہے۔ رہنما کے لیے صرف جذباتی تقاریر یا عوامی مقبولیت کافی نہیں ہوتی۔
اسے اپنے معاشرے، اپنی جماعت، آئین، قانون، معیشت، تاریخ، عالمی سیاست اور عوامی نفسیات کا ادراک ہونا چاہیے۔
علم پر مبنی فیصلے تنظیموں کو مضبوط کرتے ہیں، جبکہ جذبات پر مبنی فیصلے وقتی تالیاں تو سمیٹ لیتے ہیں مگر مستقبل کو کمزور کر دیتے ہیں۔
3۔ اعتماد (Credibility) قیادت کا سب سے قیمتی سرمایہ، اعتماد تقریروں سے نہیں بلکہ کردار اور عمل سے پیدا ہوتا ہے۔
جب رہنما مشکل وقت میں اپنے کارکنوں کے ساتھ کھڑا ہو، انصاف کرے، وعدہ پورا کرے اور ذاتی تعلقات پر اصول کو ترجیح دے، تب عوام اور کارکن اس پر اعتماد کرتے ہیں۔
اعتماد ٹوٹ جائے تو مضبوط سے مضبوط جماعت بھی اندر سے کھوکھلی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
4۔ مؤثر رابطہ (Communication) صرف بولنا نہیں، سننا بھی قیادت ہے، ایک عظیم رہنما صرف بہترین مقرر نہیں ہوتا بلکہ بہترین سامع بھی ہوتا ہے۔ جو قیادت صرف تعریف سنتی ہے وہ حقیقت سے دور ہو جاتی ہے، جبکہ جو قیادت اختلافی رائے کو بھی عزت دیتی ہے وہ مضبوط ہوتی ہے۔ تنظیم میں مکالمہ ختم ہو جائے تو فیصلہ سازی چند افراد تک محدود ہو جاتی ہے، اور یہی جمود کا آغاز ہوتا ہے۔
5۔ جرات (Courage) اصولوں پر ڈٹے رہنے کا نام۔ حقیقی جرات مخالفین پر تنقید کرنے میں نہیں بلکہ اپنے لوگوں کے سامنے بھی حق بات کہنے میں ہے۔ بحران، دباؤ، نقصان یا مخالفت کے باوجود انصاف پر قائم رہنا ہی قیادت کا اصل امتحان ہے۔
6۔ نظریاتی وابستگی (Commitment) سیاست کی روح۔ سیاسی کارکن اپنی قیادت کی تقریریں کم اور اس کی ثابت قدمی زیادہ دیکھتے ہیں۔ جو رہنما ہر بدلتے موسم کے ساتھ اپنا نظریہ بدل لے، وہ وقتی طور پر کامیاب ہو سکتا ہے لیکن نظریاتی کارکنوں کا اعتماد کھو دیتا ہے۔ اصولوں پر استقامت ہی قیادت کا اصل حسن ہے۔
7۔ خدمت اور انسان دوستی (Compassion) اقتدار نہیں، خدمت۔ حقیقی قیادت خدمت سے پہچانی جاتی ہے۔ رہنما اپنے لیے آسانیاں پیدا نہیں کرتا بلکہ دوسروں کی مشکلات کم کرتا ہے۔ جو کارکنوں کے دکھ درد کو محسوس کرے، ان کی عزت کرے اور ہر فرد کو اپنی جماعت کا سرمایہ سمجھے، وہی عوامی رہنما کہلانے کا حق رکھتا ہے۔
*عملی سیاست کا آٹھواں باب, مفاد پرست اور چاپلوس عناصر*
کتابوں میں قیادت کے سات اصول ضرور پڑھائے جاتے ہیں، لیکن عملی سیاست ایک آٹھواں باب بھی سکھاتی ہے، اور وہ ہے:
*مفاد پرست، خوشامدی اور چاپلوس عناصر کی نفسیات۔*
ہر سیاسی جماعت میں کچھ ایسے لوگ ضرور موجود ہوتے ہیں جن کا تعلق نظریے سے کم اور مفاد سے زیادہ ہوتا ہے۔ وہ رہنما کے گرد ایسا حصار قائم کرتے ہیں جہاں صرف تعریف کی آوازیں پہنچتی ہیں اور حقیقت کی آوازیں دب جاتی ہیں۔ یہ عناصر کارکنوں کے درمیان بداعتمادی پیدا کرتے ہیں، اختلافِ رائے کو سازش قرار دیتے ہیں، مخلص لوگوں کو بدنام کرتے ہیں اور قیادت کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ صرف وہی وفادار ہیں۔ ان کی وفاداری نظریے سے نہیں بلکہ ذاتی مفاد، عہدے، مراعات اور اثر و رسوخ سے وابستہ ہوتی ہے۔
چاپلوسی، تنظیموں کی خاموش تباہی۔
چاپلوس کبھی اصلاح نہیں کرتا۔ وہ ہر فیصلے کو درست، ہر غلطی کو حکمت اور ہر کمزوری کو کامیابی بنا کر پیش کرتا ہے۔ یہ رویہ قیادت کو آہستہ آہستہ حقیقت سے دور لے جاتا ہے۔ جب رہنما صرف چند مخصوص افراد کی بات سننے لگے، جب اختلاف رائے کو بغاوت سمجھا جائے، جب تنقید برداشت نہ کی جائے اور جب اصولوں کی جگہ شخصیات کو فوقیت دی جائے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ تنظیم کے اندر جمہوری روح کمزور ہونا شروع ہو چکی ہے۔
ایسی جماعتیں باہر سے مضبوط نظر آتی ہیں لیکن اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔
نظریاتی کارکن اور مفاداتی کارکن میں فرق، نظریاتی کارکن مشکل حالات میں بھی جماعت کے ساتھ کھڑا رہتا ہے۔ وہ اختلاف ضرور کرتا ہے لیکن جماعت کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ وہ قیادت سے سوال بھی کرتا ہے، اصلاح کی بات بھی کرتا ہے اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتا۔ اس کے برعکس مفاداتی کارکن موسم دیکھ کر وفاداریاں بدلتا ہے۔ اس کی سیاست شخصیت کے گرد گھومتی ہے، نظریے کے گرد نہیں۔ جب مفاد ختم ہو جائے تو اس کی وفاداری بھی ختم ہو جاتی ہے۔
دانشمند قیادت کی پہچان، عظیم رہنما وہ نہیں جو صرف اپنی تعریف سن کر خوش ہو جائے۔ بلکہ وہ ہے جو اختلاف سننے کا حوصلہ رکھتا ہو، ہر الزام کی تحقیق کرے، ہر کارکن کو برابر سمجھے، انصاف کو تعلقات پر ترجیح دے اور فیصلوں میں مشاورت کو بنیادی اصول بنائے۔ ایسی قیادت ہی مضبوط، جمہوری اور دیرپا جماعتیں تشکیل دیتی ہے۔
یہ تحریر کسی فرد، کسی گروہ یا کسی مخصوص سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے اپنے مشاہدات، تجربات اور نظریاتی سوچ کا اظہار ہے۔ میرا ایمان ہے کہ مضبوط جماعتیں شخصیات کے گرد نہیں بلکہ نظریات، آئین، جمہوری روایات، اجتماعی فیصلوں اور مخلص کارکنوں کی قربانیوں پر قائم ہوتی ہیں۔
اگر ہم حقیقی جمہوریت، مضبوط سیاسی جماعتیں اور باشعور معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں ایسی قیادت پیدا کرنی ہوگی جو کردار کو اقتدار پر، اصول کو مفاد پر، انصاف کو تعلقات پر، مکالمے کو خاموشی پر، نظریے کو شخصیت پر اور عوامی خدمت کو ذاتی خواہشات پر ترجیح دے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے سچ بولنے کی جرأت کی، نہ کہ ان لوگوں کو جنہوں نے اقتدار کے ایوانوں میں چاپلوسی کے قصیدے پڑھے۔

