تحریر: محمدمظہررشید چودھری (03336963372)
سکول و دفتری اوقات میں ہیوی ٹریفک کے داخلے پر پابندی، موٹر سائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ، بیک ویو مررز اور قانونی نمبر پلیٹ ضروری
شہر کسی بھی معاشرے کی اجتماعی زندگی کا آئینہ ہوتے ہیں۔ سڑکیں، بازار، تعلیمی ادارے، دفاتر اور رہائشی علاقے شہری زندگی کے بنیادی حصے ہیں اور ان سب کے درمیان ٹریفک کا مربوط اور محفوظ نظام بنیادی ضرورت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر سڑکوں پر ٹریفک بے ہنگم ہو جائے، ہیوی گاڑیاں مصروف اوقات میں شہر کے اندر داخل ہوں اور موٹر سائیکل و دیگر دو پہیہ گاڑیوں کے سوار حفاظتی اصولوں کو نظر انداز کریں تو مسئلہ صرف ٹریفک جام تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کا سوال بھی پیدا ہو جاتا ہے۔اوکاڑہ میں بھی گزشتہ کچھ عرصے سے ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ، بالخصوص ہیوی ٹریفک کی شہر کے اندر آمدورفت کے باعث شہریوں کو مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔ سکول اور دفتری اوقات میں سڑکوں پر غیر معمولی رش ہوتا ہے۔ ایک طرف طلبہ کو سکولوں تک پہنچنے اور چھٹی کے وقت گھروں کو واپس جانے کی جلدی ہوتی ہے، دوسری طرف دفاتر اور کاروباری مراکز کی طرف جانے والے شہری سڑکوں پر موجود ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر بھاری گاڑیاں بھی اسی وقت شہر کی مصروف شاہراہوں پر رواں دواں ہوں تو ٹریفک کی روانی متاثر ہونا ایک فطری امر ہے۔اسی اہم مسئلے پر گزشتہ دنوں ڈسٹرکٹ ٹریفک آفیسر اوکاڑہ سربالی خان ڈی ایس پی سے راقم الحروف /کالم نگار، جرنلسٹ و اینکرپرسن محمد مظہر رشید چودھری اور ضلعی صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) شعبہ خواتین و سابق سینئر نائب صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ ہائی کورٹ نے ملاقات کی۔ ملاقات میں شہر کے ٹریفک مسائل، شہریوں کو درپیش مشکلات، حادثات کی روک تھام اور روڈ سیفٹی کے حوالے سے مختلف تجاویز پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔اس ملاقات میں ایک اہم تجویز یہ سامنے آئی کہ سکولوں اور دفاتر کے اوقات میں ہیوی ٹریفک کے شہر میں داخلے کو محدود یا ممنوع قرار دینے کے معاملے پر عملی طور پر غور کیا جائے۔ میرے خیال میں یہ ایک ایسی تجویز ہے جس پر محض بحث نہیں بلکہ متعلقہ اداروں، تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور شہری نمائندوں کو ساتھ بٹھا کر قابل عمل حکمت عملی بنائی جانی چاہیے۔ اگر بھاری ٹریفک کے لیے مخصوص اوقات اور متبادل روٹس مقرر کر دیے جائیں تو شہری ٹریفک کا دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹریفک کے مسائل صرف ہیوی ٹریفک تک محدود نہیں۔ ہماری سڑکوں پر موٹر سائیکلوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور دو پہیہ گاڑیوں کے سواروں کی معمولی سی غفلت بھی بعض اوقات بڑے حادثے کا سبب بن جاتی ہے۔ سب سے اہم بات ہیلمٹ کا استعمال ہے۔ ہیلمٹ کسی قانون سے بچنے کے لیے نہیں بلکہ زندگی بچانے کے لیے ہے۔ بدقسمتی سے بہت سے موٹر سائیکل سوار آج بھی ہیلمٹ کو اپنی ضرورت نہیں سمجھتے۔ ٹریفک پولیس کی طرف سے کارروائی اپنی جگہ، مگر اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب شہری خود ہیلمٹ کو اپنی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنا لیں گے۔اسی طرح موٹر سائیکلوں پر بیک ویو مررز کی موجودگی بھی انتہائی اہم ہے۔ سڑک پر پیچھے سے آنے والی گاڑی کا اندازہ کیے بغیر اچانک لین تبدیل کرنا یا موڑ کاٹنا حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔ بیک ویو مرر ڈرائیور کو اپنے اردگرد کے ٹریفک ماحول سے باخبر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے موٹر سائیکل سواروں کو چاہیے کہ وہ اپنی گاڑی کو سڑک پر لانے سے پہلے اس کے بنیادی حفاظتی تقاضے ضرور پورے کریں۔ملاقات میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی جانب سے جاری کردہ قانونی نمبر پلیٹ کے استعمال اور موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی۔ شہریوں میں یہ شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ گاڑی یا موٹر سائیکل کی رجسٹریشن محض ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ اس کی شناخت اور مالک کی ذمہ داری کا بھی اہم ذریعہ ہے۔ غیر رجسٹرڈ گاڑیوں اور غیر قانونی نمبر پلیٹوں کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لیے آگاہی کے ساتھ ساتھ قانون پر مؤثر عملدرآمد بھی ضروری ہے۔سکوٹی اور ای بائیک کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ٹریفک سیفٹی کے حوالے سے ایک نیا باب بھی کھول دیا ہے۔ خصوصاً خواتین میں سکوٹی کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے جو ایک مثبت بات ہے، تاہم محفوظ سفر کے لیے ضروری ہے کہ سکوٹی سوار خواتین بھی ہیلمٹ کے استعمال کو لازمی بنائیں۔ ای بائیک استعمال کرنے والے نوجوانوں کو بھی مناسب رفتار، بیک ویو مررز، ہیلمٹ، لین ڈسپلن اور دیگر بنیادی حفاظتی اصولوں سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔ جدید سواری کے ذرائع اگر ذمہ داری کے ساتھ استعمال ہوں تو سہولت بنتے ہیں، بصورت دیگر یہی سہولت خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ڈی ایس پی ٹریفک سربالی خان نے ملاقات کے دوران ٹریفک پولیس اوکاڑہ کی جانب سے شہریوں میں ٹریفک قوانین اور روڈ سیفٹی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک کی روانی بہتر بنانا، حادثات کی روک تھام اور شہریوں کو محفوظ سفری ماحول فراہم کرنا ٹریفک پولیس کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ٹریفک کے مسائل کے حل کے لیے شہریوں کا تعاون بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد صرف چالان کرنے سے ممکن نہیں۔ چالان قانون کی خلاف ورزی روکنے کا ایک ذریعہ ضرور ہے، لیکن مستقل بہتری کے لیے قانون، آگاہی، بہتر ٹریفک مینجمنٹ اور شہری تعاون چاروں کا ساتھ ضروری ہے۔ سکولوں میں طلبہ کو روڈ سیفٹی کی تعلیم دی جائے، والدین بچوں کو ٹریفک قوانین کی پابندی کا عادی بنائیں، موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ پہنیں اور متعلقہ ادارے سڑکوں کی منصوبہ بندی اور ٹریفک مینجمنٹ پر توجہ دیں تو صورتحال میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔اوکاڑہ ایک بڑھتا ہوا شہر ہے۔ آبادی میں اضافے کے ساتھ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں آج کی منصوبہ بندی ہی مستقبل کے مسائل سے بچا سکتی ہے۔ ہیوی ٹریفک کے لیے اوقات مقرر کرنا، متبادل روٹس متعین کرنا، مصروف شاہراہوں پر مؤثر ٹریفک مینجمنٹ، پارکنگ کے مسائل کا حل، موٹر سائیکل سواروں میں ہیلمٹ اور حفاظتی آلات کے استعمال کا شعور اور غیر قانونی نمبر پلیٹوں و غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی وقت کی ضرورت ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹریفک پولیس، ضلعی انتظامیہ، میونسپل ادارے، محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، تعلیمی ادارے، ٹرانسپورٹرز، وکلاء، صحافی اور سول سوسائٹی ایک مشترکہ حکمت عملی تشکیل دیں۔ سڑکیں صرف گاڑیوں کے گزرنے کی جگہ نہیں بلکہ انسانی زندگیوں کی گزرگاہ ہیں۔ ایک لمحے کی احتیاط کسی خاندان کو عمر بھر کے دکھ سے بچا سکتی ہے۔اوکاڑہ کی سڑکوں کو محفوظ بنانا صرف حکومت یا ٹریفک پولیس کی ذمہ داری نہیں، یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم قانون کو مجبوری کے بجائے اپنی ذمہ داری سمجھ لیں، ہیلمٹ کو بوجھ کے بجائے حفاظتی حصار تصور کریں اور ٹریفک نظم و ضبط کو اپنی شہری زندگی کا حصہ بنا لیں تو یقیناً بہت سے حادثات کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے ہی روکا جا سکتا ہے۔ یہی ایک مہذب، محفوظ اور ذمہ دار شہر کی پہچان بھی ہے٭

