79 برس کی داستانِ آزادی۔۔ قربانی، مزاحمت اور روشن مستقبل کا عہد

تحریر: سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری
چیئرپرسن سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق

14 اگست صرف کیلنڈر پر درج ایک تاریخ نہیں، یہ برصغیر کے مسلمانوں کی ایک طویل، صبر آزما اور تاریخی جدوجہد کی تکمیل کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ایک خواب نے حقیقت کا روپ دھارا، ایک قوم نے اپنی آزاد شناخت حاصل کی اور پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد و خودمختار ریاست کی حیثیت سے ابھرا۔ پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر میں پوری قوم، بالخصوص بلوچستان کے عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ میں ان تمام عظیم رہنماؤں، کارکنوں، بزرگوں، ماؤں، بہنوں، نوجوانوں اور گمنام مجاہدینِ آزادی کو سلام پیش کرتی ہوں جنہوں نے قیامِ پاکستان کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔ ہم ان شہداء کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے آزادی کے بعد اس مملکتِ خداداد کی بقا، سلامتی، خودمختاری اور دفاع کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ آزادی ایک نعمت بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔آزادی اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے لیکن آزادی کا اصل تقاضا اس کی حفاظت اور اس کے ثمرات کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا ہے۔ پاکستان ہمارے لیے صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں۔ یہ ہماری شناخت، ہماری امید، ہمارے خواب، ہماری اجتماعی عزت اور ہماری آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کا نام ہے۔ گزشتہ 79 برس پاکستان کے لیے ہمیشہ آسان نہیں رہے۔ اس ملک نے جنگیں دیکھیں، اندرونی و بیرونی چیلنجز دیکھے، دہشت گردی کا سامنا کیا، معاشی مشکلات برداشت کیں، سیاسی اتار چڑھاؤ سے گزرا اور کئی آزمائشوں کا مقابلہ کیا لیکن پاکستانی قوم نے ہر مشکل گھڑی میں اپنے عزم، حوصلے اور وطن سے محبت کا ثبوت دیا۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پاکستان کو خطرہ لاحق ہوا قوم اور اس کی مسلح افواج ایک صف میں کھڑی ہوئیں۔ دشمن نے جب ہماری سرحدوں، ہماری خودمختاری اور ہماری امن و سلامتی کو چیلنج کیا تو پاکستانی قوم نے اتحاد اور عزم کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا۔ قوم اور افواج کا باہمی اعتماد پاکستان کی طاقت پاکستان کی تاریخ میں دفاعِ وطن کے کئی روشن ابواب موجود ہیں۔ 1965 کی جنگ ہو، 1971 کا مشکل دور ہو، کارگل کا معرکہ ہو یا دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ پاکستانی قوم نے اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر وطن سے وفاداری کا ثبوت دیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آپریشن راہِ نجات، ضربِ عضب اور ردْالفساد سمیت مختلف کارروائیوں کے ذریعے ریاست نے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کیے۔ ان معرکوں میں پاک فوج، فرنٹیئر کور، پولیس، لیویز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں اہلکاروں نے اپنی جانوں کی قربانی دی۔ ان کے ساتھ ساتھ عام شہریوں نے بھی دہشت گردی کا بھاری خمیازہ بھگتا اور اپنے پیاروں کی قربانیاں دیں۔ میں پاکستان کی مسلح افواج خصوصاً پاک فوج، فضائیہ اور بحریہ کے بہادر افسران و جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں جو آج بھی مشکل ترین حالات میں دن رات وطن کی حفاظت پر مامور ہیں۔ میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور تمام سیکیورٹی فورسز کے جوانوں اور افسران کو بھی سلام پیش کرتی ہوں جو دہشت گردی کے خلاف صف اول میں کھڑے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آرام، اپنے خاندان اور اپنی زندگیوں کو وطن کی سلامتی پر قربان کیا۔ قوم ان قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
معرکہ حق اور دفاعِ وطن کا نیا باب:
حالیہ برسوں میں پاکستان نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کیا کہ وطن کے دفاع کے معاملے میں پاکستانی قوم اور اس کی مسلح افواج ایک پیج پر کھڑی ہیں۔ بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور معرکہ حق کے دوران پاکستانی قوم نے جس اتحاد، حوصلے اور قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا، وہ ہماری تاریخ کا اہم باب ہے۔ پاکستان نے اپنی خودمختاری اور دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے دشمن کی جارحیت کا جواب دیا اور ساتھ ہی یہ پیغام بھی دیا کہ پاکستان امن چاہتا ہے لیکن اپنی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس عرصے میں ملک نے اپنے دفاع کے حق کے تحت جواب دیا اور بعد ازاں جنگ بندی کی طرف پیش رفت کی حمایت کی۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ امن کی خواہش کمزوری نہیں ہوتی، لیکن امن کے تحفظ کے لیے قومی اتحاد، مضبوط دفاع اور واضح عزم ناگزیر ہوتے ہیں۔
خطے کے بحران اور پاکستان کا ذمہ دارانہ کردار:
پاکستان نے خطے میں پیدا ہونے والے دیگر بحرانوں میں بھی ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان 2025 کی جنگی کشیدگی کے دوران پاکستان نے اسرائیلی حملوں کی مذمت کی، ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور عالمی سطح پر کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی اور مذاکرات و سفارت کاری کی حمایت کی۔ پاکستان نے امریکی حملوں کی بھی مذمت کی اور واضح کیا کہ تنازعات کا پائیدار حل طاقت کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری میں ہے۔ پاکستان نے اس بحران میں کسی جنگ کو ہوا دینے کے بجائے امن، علاقائی استحکام اور سفارتی حل پر زور دیا۔ یہ ہماری امن پسندی کی پالیسی کی اس بنیادی ترجیح کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اپنے خطے اور دنیا میں امن، خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کے احترام کا خواہاں ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ آج بھی پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات ہمارے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہیں۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر حصوں میں معصوم شہریوں، سیکیورٹی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ہم ہر قسم کی دہشت گردی، انتہا پسندی، تشدد اور معصوم انسانوں کے قتل کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ پاکستان کا مستقبل بندوق، نفرت اور تشدد میں نہیں بلکہ امن، تعلیم، روزگار، برداشت اور ترقی میں ہے۔ تاہم، دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف طاقت کے ذریعے مکمل نہیں ہوسکتی۔ ہمیں ان عوامل کو بھی ختم کرنا ہوگا جو نوجوانوں کو مایوسی، محرومی، نفرت اور انتہا پسندی کی طرف دھکیلتے ہیں۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، روزگار، کاروبار اور باعزت مستقبل کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔
بھٹکے ہوئے پاکستانیوں کے لیے واپسی کا دروازہ کھلا ہے:
میں ان تمام پاکستانیوں، خصوصاً ان نوجوانوں سے بھی اپیل کرتی ہوں جو کسی وجہ سے ریاست، معاشرے یا اپنے مستقبل سے مایوس ہو کر غلط راستوں پر چلے گئے ہیں کہ وہ واپس قومی دھارے میں شامل ہوں۔
وطن اپنے بچوں کو دھتکارتا نہیں، انہیں واپس بلاتا ہے۔ جو نوجوان کسی غلط فہمی، محرومی، بیرونی پروپیگنڈے یا غلط عناصر کے اثر میں آ گئے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوچیں۔ اپنے وطن کو پہچانیں، اپنے لوگوں کو پہچانیں اور اپنی صلاحیتوں کو تباہی کے بجائے تعمیر کے لیے استعمال کریں۔ پاکستان کو اپنے نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ بلوچستان کو اپنے نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کے ہاتھ میں بندوق نہیں، قلم، ہنر، ٹیکنالوجی اور روزگار کے مواقع دینے ہیں۔
بلوچستان کے نوجوانوں کے نام خصوصی پیغام:
بلوچستان میرے دل کے قریب ہے اور بلوچستان کے نوجوان پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ میں خاص طور پر بلوچستان کے ناراض اور مایوس نوجوانوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ وہ دشمن عناصر کے پروپیگنڈے اور منفی عزائم کے چنگل سے نکلیں۔ آپ کے مسائل کے حل کے لیے سیاسی، جمہوری اور آئینی راستے موجود ہیں۔ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا ایک جمہوری حق ہے، لیکن اپنے ہی ملک، اپنے ہی لوگوں اور بے گناہ شہریوں کے خلاف تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں۔ بلوچستان کے نوجوان دشمن کے ہاتھوں استعمال ہونے کے لیے نہیں، پاکستان کی تقدیر بدلنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ اپنی تعلیم مکمل کریں، ہنر حاصل کریں، کاروبار کریں، تحقیق کریں، سرکاری و نجی اداروں میں آگے بڑھیں، سیاست اور سماجی خدمت میں حصہ لیں اور دنیا کو دکھا دیں کہ بلوچستان کا نوجوان پاکستان کی ترقی کا معمار ہے۔ سچا پاکستانی ہونا صرف نعرہ لگانے کا نام نہیں۔ سچی حب الوطنی یہ ہے کہ ہم اپنے وطن کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی صلاحیت، وقت، علم اور کردار استعمال کریں۔
79 برس کا سبق، مستقبل کا عہد:
79 برس ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ پاکستان کی طاقت صرف اس کے جغرافیے میں نہیں بلکہ اس کے عوام کے اتحاد میں ہے۔ ہماری اصل قوت ہماری قومی یکجہتی، ہماری نوجوان نسل، ہماری مسلح افواج، ہمارے ادارے اور سب سے بڑھ کر پاکستان سے ہماری محبت ہے۔ آج ہمیں ماضی کی قربانیوں سے حوصلہ لینا ہے، لیکن مستقبل کی تعمیر بھی کرنی ہے۔ ہمیں ایسا پاکستان بنانا ہے جہاں نوجوانوں کو مواقع حاصل ہوں، جہاں تعلیم ہر بچے تک پہنچے، جہاں روزگار کے دروازے کھلیں، جہاں خواتین قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کریں، جہاں بلوچستان سمیت ہر صوبے کے عوام خود کو پاکستان کی ترقی کے سفر کا برابر کا حصہ سمجھیں، جہاں قانون کی حکمرانی ہو اور جہاں اختلاف رائے کو دشمنی نہیں بلکہ جمہوری قوت سمجھا جائے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ پاکستان صرف حکومتوں کا نہیں، 25 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کا وطن ہے۔ اس کی تعمیر ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ آئیے ایک نئے عہد کے ساتھ 14 اگست منائیں۔آج 14 اگست کے موقع پر ہمیں صرف سبز ہلالی پرچم لہرانے اور ملی نغمے گانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ہمیں اپنے دلوں میں یہ عہد بھی تازہ کرنا ہوگا کہ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور ترقی کے لیے ہم اپنی ذمہ داری پوری کریں گے۔آیئے ہم عہد کریں کہ ہم نفرت کے بجائے محبت کو فروغ دیں گے۔۔۔ ہم انتشار کے بجائے اتحاد کا راستہ اختیار کریں گے۔۔۔ ہم مایوسی کے بجائے امید کو زندہ رکھیں گے۔۔۔ ہم تخریب کے بجائے تعمیر کو ترجیح دیں گے۔۔۔ ہم تشدد کے بجائے مکالمے اور جمہوری راستے کو اپنائیں گے۔۔۔ ہم اپنے نوجوانوں کو قومی ترقی کی قوت بنائیں گے۔۔۔ہم پاکستان کے دشمنوں کے عزائم کو اپنے اتحاد سے ناکام بنائیں گیاور وطن کی سلامتی کے لیے قوم اور سیکیورٹی فورسز نے ماضی میں جس عزم کا مظاہرہ کیا، اسی عزم کے ساتھ مستقبل میں بھی ہر قربانی کے لیے تیار رہیں گے۔
پاکستان کے قیام کے لیے قربانی دینے والوں کو ہمارا سلام، پاکستان کی حفاظت کے لیے جانیں قربان کرنے والے شہداء کو ہمارا سلام، دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے بہادر جوانوں کو ہمارا سلام اور ہر اس پاکستانی کو سلام جو اپنے حصے کی ذمہ داری ایمانداری سے ادا کر رہا ہے۔ آئیے 79ویں یومِ آزادی پر ایک بار پھر عہد کریں کہ ہم ایک قوم بن کر پاکستان کی سلامتی، خودمختاری، ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کریں گے۔ہماری منزل ایک مضبوط پاکستان ہے۔۔۔ ہماری طاقت ہمارا اتحاد ہے۔۔۔ ہماری پہچان پاکستان ہے اور ہمارا مستقبل بھی پاکستان ہے۔۔۔پاکستان ہماری جان، پاکستان ہماری شان اور پاکستان ہماری پہچان ہے۔ پاکستان زندہ بادپاک فوج پائندہ باد!

اپنا تبصرہ بھیجیں