خورشید ندیم
15 اگست جنرل حمید گل کا یومِ وفات ہے اور 17 اگست جنرل ضیا الحق کا یومِ شہادت۔ دونوں نے ہماری ریاست اور سماج کو غیر معمولی طور پر متاثر کیا۔ میرا تاثر ہے کہ ان کے کردار کی تفہیم میں انصاف سے کام نہیں لیا گیا۔ یہ افراط وتفریط کی نذر ہو گئے۔
یہ معاملہ صرف ان شخصیات کے ساتھ نہیں ہوا۔ ہم بھٹو صاحب کا نام بھی اس فہرست میں شامل کر سکتے ہیں۔ تاریخ ساز شخصیات‘ عام طور پر سماج کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتی ہیں۔ ایسی شخصیت کی نمود اگر کسی کے لیے فائدے کا سبب بنتی ہے تو کسی کے لیے نقصان کا۔ یہ نتیجہ سماج کو منقسم کر دیتا ہے۔ کم لوگ تاریخ کا بے لاگ تجزیہ کر پاتے ہیں۔ ہمارے لیے یہ کام اس لیے زیادہ مشکل ہے کہ ہم شخصیات سے معروضی تعلق نہیں قائم کر پاتے۔ ان کی عقیدت میں ڈوب جاتے ہیں یا ان کی نفرت میں۔ اس سے وہ معروضیت باقی نہیں رہتی جو تاریخ کے غیر جانبدارانہ مطالعے کے لیے لازم ہے۔ مسلم تاریخ کے باب میں اس رویے نے فر قہ واریت کو جنم دیا۔ کچھ یہی معاملہ پاکستان کی تاریخ کے ساتھ ہوا۔ ہم نے اس کی بنیاد پر بھی دو فرقے بنا لیے۔
بھٹو صاحب کے معاملے میں‘ گزشتہ چند برسوں سے ہم اعتدال کی طرف بڑھے ہیں۔ آج ان کے بدترین دشمن بھی قومی زندگی میں ان کے مثبت کردار کی تحسین کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے لوگ ابھی زندہ ہیں جو ان کے زخم خوردہ ہیں۔ وہ بھی ان زخموں کے بھر جانے کے بعد‘ ان کی تعریف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس میں بڑا دخل ‘میثاقِ جمہوریت‘ کا ہے۔ نواز شریف صاحب جیسے ناقدین جب پیپلز پارٹی کے قریب آئے تو ان کی سوچ میں توازن آنا شروع ہوا۔ جب مریم نواز صاحبہ نے گڑھی خدا بخش میں بے نظیربھٹو صاحبہ کی برسی میں شرکت کی اور ان کی تعریف کی تو منظر مزید بدلا۔ سیاسی قیادت کی بالغ نظری نے تاریخ کو معروضی انداز میں سمجھنے کا موقع پیدا کیا۔ آج کہا جا سکتا ہے کہ بھٹو صاحب کے بارے میں قوم ایک متوازن جگہ پر کھڑی ہے۔
جنرل ضیا الحق اور جنرل حمید گل کے بارے میں یہ توازن دکھائی نہیں دیتا۔ نہ صرف توازن نہیں بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ‘ ان کے بارے میں منفی رائے میں اضافہ ہوا ہے۔ میرے نزدیک اس کے دو اسباب ہیں۔ ایک تو یہ کہ جنرل ضیا الحق اور جنرل حمید گل کی سیاسی وراثت باقی نہیں رہی۔ ان کے فطری جانشین نواز شریف صاحب ہیں۔ جنرل ضیا الحق صاحب نے ان کے بارے میں یہ دعا کی تھی کہ انہیں جنرل صاحب کی عمر لگ جائے۔ ان کی شہادت کے بعد‘ نواز شریف صاحب نے بھی ان کے مشن کی تکمیل کو اپنا نصب العین قرار دیا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نواز شریف صاحب کا اندازِ نظر بدلنے لگا۔ انہوں نے جنرل صاحب کے ‘مشن‘ سے فاصلہ بڑھانا شروع کر دیا۔ یہ فاصلہ اتنا بڑھا کہ آج وہ زبانِ حال سے جنرل صاحب کے مشن اور ذات سے مکمل علیحدگی کا اعلان کر چکے ہیں۔ اب تو وہ ان کے یومِ شہادت پر رسمی بیان بھی جاری نہیں کرتے۔ اعجاز الحق صاحب نے اس لاتعلقی کو دیکھتے ہوئے‘ ایک نئی جماعت قائم کر لی جو جنرل صاحب کے مشن کی علمبردار ہے۔ حالات نے مگر ان کا ساتھ نہیں دیا۔
دوسرا سبب یہ ہوا کہ جہادِ افغانستان کے جو اثرات پاکستان کی ریاست اور سماج پر مرتب ہوئے‘ وہ انتہائی تباہ کن تھے۔ ایک جہادی کلچر اس طرح پھیلا کہ اس نے مذہب سمیت ہر قدر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ایسے فساد نے جنم لیا کہ آج پاکستان اور افغانستان بدترین دشمن بن چکے۔ جرائم اور منشیات اس پر مستزاد۔ اس کے ساتھ آمریت کے خلاف اور جمہوریت کے حق میں ایسی فضا بنی کہ کسی فوجی آمر کے لیے کلمہ خیر کہنا مشکل ہو گیا۔ ضیا الحق مذہبی طبقے کے ہیرو تھے ا ور پرویز مشرف لبرل طبقے کے۔ تاریخ کے جبر نے ایسا ماحول بنا دیا کہ نہ مذہبی طبقہ ضیا الحق صاحب کا نام لے سکا اور نہ لبرلز نے جنرل مشرف سے کسی تعلق کا اظہار کیا۔ فوجی آمر پاکستان میں لاوارث قرار پائے۔
جنرل حمید گل کو لوگ جنرل ضیا الحق سے الگ کر کے نہ دیکھ سکے۔ انہیں بھی لوگوں نے اس جہادی کلچر کے فروغ کا ذمہ دار سمجھا جس کی بنیاد ضیا الحق صاحب نے رکھی تھی۔ فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد‘ انہوں نے متحرک سیاسی کردار ادا کر نے کی کوشش کی۔ نواز شریف صاحب کو ضیا الحق صاحب کے مشن سے منحرف قرار دے کر ان پر سخت تنقید کی۔کارگل کے دنوں میں‘ انہوں نے نواز شریف صاحب کو غدار بھی قرار دیا۔ انہوں نے بعض دوسرے افراد سے بھی توقعات وابستہ کیں۔ ان میں عمران خان صاحب بھی شامل تھے۔ اس پر اتفاق ہو گیا کہ دونوں ایک پارٹی میں ہوں گے۔ جنرل صاحب سرپرست ہوں گے اور اس کا عوامی چہرہ عمران خان ہوں گے۔ دستاویز لکھ دی گئی۔ عمران خان نے کہا کہ وہ امریکہ کے دورے کے بعد‘ اس پر دستخط کریں گے۔ دورے کے بعد مگر انہوں نے پکڑائی نہ دی۔ نہیں معلوم یہ دورے کا اثر تھا یا کیا تھا کہ وہ اس عہد سے پھر گئے۔ جنرل صاحب نواز شریف صاحب کی طرح‘ خان صاحب سے بھی سخت مایوس ہوئے۔ انفرادی حیثیت میں وہ ‘سوفٹ ریوولوشن‘ کی کوشش کرتے رہے مگر اتنے ہم خیال نہ مل سکے کہ کارواں بنتا۔
واقعات کا یہ بہاؤ اتنا تیز تھا کہ قوم ان دو شخصیات کے کردار کا معروضی مطالعہ نہ کر سکی۔ ان کی خوبیاں کبھی زیرِ بحث نہ آ سکیں۔ قوم کے لیے ان کی خدمات بھی دھندلا گئیں۔ آج ایٹم بم کی تیاری میں ہم بابِ اوّل اور بابِ آخر کا ذکر کرتے ہیں مگر اس کتاب کے درمیان کے اوراق کا تذکرہ بھول جاتے ہیں جو ضیا الحق صاحب نے رقم کیے۔ جہادِ افغانستان کے منفی اثرات کا ذکر کرتے ہیں مگر جنرل حمید گل جیسے لوگوں کی عسکری مہارت کو فراموش کر دیتے ہیں جس کا مظاہرہ انہوں نے اس جنگ میں کیا۔ آئی ایس آئی ان کے دور میں دنیا کی بہترین انٹیلی جنس ایجنسی بن چکی تھی۔ دشمن پر ہماری ہیبت طاری تھی۔ ان حضرات کا خیال تھا کہ اب وہ موقع آ گیا ہے جب کشمیر کو عسکری جدوجہد سے آزاد کرایا جا سکتا ہے۔ پھر ان شخصیات کے شخصی اوصاف ہیں۔ وہ ذاتی اخلاقیات میں ممتاز تھے۔ ان کا دامن کرپشن سے پاک تھا۔ الزامات کا معاملہ اور ہے ورنہ ان کا کوئی جزیرہ دریافت ہوا نہ بینک بیلنس۔ جنرل ضیا الحق کے بھائی ان کے صدر بننے سے پہلے باٹا کی دکان پر تھے اور بعد میں بھی وہیں پائے گئے۔
جنرل ضیا الحق ہمارے دور کے اورنگزیب تھے۔ ان کا اندازِ سیاست بھی ان جیسا تھا اور ذاتی کردار بھی۔ جنرل حمید گل بھی ذاتی طور پر ایک نجیب آدمی تھے۔ ملک و قوم کے لیے درد رکھتے تھے۔ انسانی اخلاقیات کو اہمیت دیتے تھے۔ میں نے انہیں ایک شریف النفس آدمی پایا۔ آج جنرل ضیا الحق کو رخصت ہوئے انتالیس برس ہو گئے اور جنرل حمید گل کو وفات پائے گیارہ سال۔ آج ہمیں ٹھیر کر‘ بھٹو صاحب کی طرح‘ ان شخصیات کے کردارکا معروضی جائزہ لینا چاہیے۔ بھٹو صاحب کے فاشزم نے سیاست کو جس طرح برباد کیا‘ وہ ہمارے سامنے ہے۔ انتخابات میں دھاندلی کا جو ریکارڈ انہوں نے قائم کیا‘ شاید ہی توڑا جا سکے۔ سقوطِ ڈھاکہ میں ان کے کردار پر سوالیہ نشان ہے۔ اس کے باوصف ہم ان کے بارے میں ایک متوازن بات کہنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ یہ شخصیات بھی اسی توازن کا مطالبہ کرتی ہیں۔ اقتدار کی سیاست کا اپنا چلن ہے۔ یہ چلن صدیوں سے ایک جیسا ہے۔ ہم جن تاریخی شخصیات کو پوجتے ہیں‘ وہ بھی ایسی ہی تھیں۔ استثنا پیغمبروں کا ہے یا ان کے ابتدائی جانشینوں کا۔
Load/Hide Comments

