تحریر: محمد مظہر رشید چودھری (03336963372)
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جو لوگ اپنی کمزوری کو اپنی طاقت بنا لیتے ہیں، وہ نہ صرف اپنی زندگی کا رخ بدلتے ہیں بلکہ اپنے طبقے، شہر اور ملک کے لیے بھی باعثِ فخر بن جاتے ہیں۔ حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دینے والے وقت کی گرد میں کہیں گم ہوجاتے ہیں، مگر جدوجہد کرنے والے اپنے کردار اور حوصلے سے وقت سے آگے نکل جاتے ہیں۔’نایاب علی‘ بھی انہی لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے زندگی کی مشکلات کو اپنی منزل کی راہ میں رکاوٹ بننے کے بجائے اپنی جدوجہد کا ایندھن بنایا۔اوکاڑہ کے لیے ایک اور تاریخی اعزاز یہ ہے کہ خواجہ سرا کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی نایاب علی کو ستارہ امتیاز سے نوازے جانے کا اعلان سامنے آیا ہے۔ اگرچہ یہ اعزاز ان کی ذاتی کامیابی کا اعتراف ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں اوکاڑہ کے لیے بھی ایک بڑے فخر کا پہلو موجود ہے۔ جس شہر سے نایاب علی نے اپنی سماجی جدوجہد کا سفر شروع کیا، آج اسی شہر کا نام ان کی وجہ سے قومی اور عالمی سطح پر ایک مرتبہ پھر نمایاں ہورہا ہے۔نایاب علی سے راقم الحروف محمد مظہر رشید چودھری کی پہلی ملاقات 2015ء میں میرے دفتر، سماجی تنظیم ماڈا رجسٹرڈ، میں ہوئی۔ اس وقت نایاب علی آج کی طرح عالمی سطح پر معروف نہیں تھیں۔ ملاقات کے دوران انہوں نے سماجی کاموں، خواجہ سرا افراد کے مسائل اور ان مسائل کو میڈیا کے ذریعے اجاگر کرنے کی ضرورت پر تفصیلی گفتگو کی۔ ان کے ساتھ ایک اور ٹرانس جینڈر بھی موجود تھیں۔ گفتگو سے اندازہ ہوتا تھا کہ نایاب علی اپنی ذات تک محدود رہنے کے بجائے اپنی کمیونٹی کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہیں۔انہوں نے اس ملاقات میں اوکاڑہ کی ایک اور سماجی تنظیم کے روح رواں اپنے کلاس فیلو کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ وہ ان کے ساتھ مل کر سماجی کاموں میں حصہ لے رہی ہیں۔ چونکہ راقم الحروف خود سماجی کارکن ہونے کے ساتھ صحافت سے بھی وابستہ ہے، اس لیے نایاب علی اور ان کی ساتھیوں کی سماجی سرگرمیوں کے حوالے سے خبریں مختلف اخبارات کے نمائندگان کے توسط سے شائع کروانے کی کوشش کی گئی۔اس کے بعد رینالہ خورد میں اے ایم ویلفیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام ایک ایوارڈ تقریب میں بھی نایاب علی سے ملاقات اور گفتگو ہوئی۔ 2017ء کے وسط میں نایاب علی نے اپنے ایک دوست کی سرگرمیوں سے لاتعلقی اور بعض خدشات کے حوالے سے پریس کانفرنس کرنے کے لیے مجھے فون کیا۔ میں نے انہیں مشورہ دیا کہ پریس کانفرنس کے اہم نکات کے حوالے سے سٹی پریس کلب رجسٹرڈ کے چیف آرگنائزر عابد حسین مغل سے بھی مشاورت کرلی جائے،کیونکہ میں جانتا تھا کہ جس شخص کے بارے میں وہ خدشات ظاہر کر رہی ہیں وہ عابد حسین مغل کا دوست ہے۔ یوں نایاب علی کی عابد حسین مغل سے بھی پہلی ملاقات کا ذریعہ بننے کا اتفاق ہوا۔اس ملاقات کو آج کئی برس بعد یاد کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ نایاب علی کے اندر اس وقت بھی ایک خاص اعتماد اور آگے بڑھنے کی خواہش موجود تھی۔ شاید یہی وہ جذبہ تھا جس نے انہیں بعد کے برسوں میں ایسے راستوں پر چلایا جہاں مشکلات بھی تھیں، مخالفت بھی تھی، خطرات بھی تھے مگر منزل بھی واضح تھی۔نایاب علی کی زندگی کا ابتدائی دور بھی جدوجہد سے عبارت ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق انہیں کم عمری میں اپنی شناخت کے باعث گھر سے الگ ہونا پڑا۔نایاب علی، جنہیں بعض ذرائع میں ان کے سابق نام محمد ارسلان سے بھی منسوب کیا جاتا ہے، پنجاب کے ضلع اوکاڑہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کی زندگی کا ابتدائی دور مشکلات اور آزمائشوں سے عبارت رہا۔ جب وہ محض 13 برس کی عمر میں آٹھویں جماعت کی طالبہ تھیں تو ان کے اہل خانہ نے انہیں قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اس مشکل وقت میں وہ اپنی نانی کے گھر چلی گئیں، جہاں انہوں نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ طالب علمی کے زمانے میں انہیں اپنی شناخت کے باعث بارہا ہراسانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، مگر ان حالات نے ان کے حوصلے کو توڑنے کے بجائے مزید مضبوط کیا۔ صرف 17 برس کی عمر میں نایاب علی نے خواجہ سرا افراد کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور اپنی کمیونٹی کے مسائل پر کام کرنے کا آغاز کردیا۔ بعد ازاں وہ خواجہ سرا برادری کی ایک گرو کے ساتھ رہنے لگیں، جہاں سے ان کی سماجی جدوجہد کو مزید وسعت ملی۔ زندگی کے مختلف مراحل میں انہیں تیزاب حملے جیسے سنگین واقعات کا بھی سامنا کرنا پڑا، لیکن ہر مشکل کے باوجود انہوں نے تعلیم، سماجی خدمت اور اپنی کمیونٹی کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔ یہی مستقل مزاجی آگے چل کر ان کی شناخت اور کامیابی کی بنیاد بنی۔ انہوں نے اوکاڑہ سے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کیا، پھر پنجاب یونیورسٹی سے نباتات میں بیچلر اور پریسٹن یونیورسٹی اسلام آباد سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو صرف ذاتی ترقی تک محدود نہیں رکھا بلکہ خواجہ سرا کمیونٹی کے مسائل کو اپنی جدوجہد کا محور بنایا۔ اوکاڑہ میں خواجہ سرا کمیونٹی سینٹر کے ذریعے بنیادی خواندگی، حساب، فنی تربیت، زندگی کی مہارتوں اور ڈرائیونگ جیسی تربیت کے مواقع فراہم کیے گئے۔نایاب علی کے سفر میں 2018ء ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا، جب انہوں نے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ NA-142 اوکاڑہ سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ اس لیے بھی غیر معمولی تھا کہ روایتی سیاسی ماحول میں ایک خواجہ سرا امیدوار کا بڑے سیاسی ناموں کے مقابلے میں انتخابی میدان میں اترنا بذاتِ خود ایک تاریخی قدم تھا۔وہ انتخاب نہ جیت سکیں، لیکن انہوں نے ایک نئی بحث ضرور چھیڑ دی کہ خواجہ سرا افراد صرف معاشرے کے حاشیے پر کھڑے افراد نہیں بلکہ ووٹر، امیدوار، کارکن اور پالیسی سازی میں شریک شہری بھی ہوسکتے ہیں۔ بعد میں نایاب علی نے سیاسی اور سماجی سطح پر اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ان کی زندگی کا ایک تکلیف دہ پہلو تشدد بھی ہے۔ فرنٹ لائن ڈیفنڈرز کے مطابق نومبر 2020ء میں دو مسلح افراد ان کے گھر میں داخل ہوئے، انہیں باندھ کر تشدد کیا اور قیمتی سامان لے گئے۔ اس واقعے پر مقدمہ بھی درج ہوا۔مگر تشدد، دھمکیوں اور مشکلات نے نایاب علی کے عزم کو کمزور نہیں کیا۔ ان کی جدوجہد کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا۔ 2020ء میں انہیں گالا انٹرنیشنل ایکٹیوسٹ ایوارڈسے نوازا گیا، جس کے ذریعے انہیں پاکستان سے خواجہ سرا حقوق کے لیے نمایاں کام کرنے والی عالمی سطح کی کارکن کے طور پر پذیرائی ملی۔ اسی عرصے میں انہیں فرانکو جرمن انسانی حقوق ایوارڈ بھی ملا۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ نایاب علی کی جدوجہد صرف احتجاج یا بیان بازی تک محدود نہیں رہی۔ وہ پالیسی، قانون، سیاسی شمولیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے میدان میں بھی کام کرتی رہی ہیں۔نایاب علی نے اپنی محنت سے جہاں اپنی شناخت بنائی، وہیں اوکاڑہ اور پاکستان کا نام بھی روشن کیا۔ دنیا بھر میں خواجہ سرا افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والے بے شمار کارکن موجود ہیں، مگر اپنی تعلیم، سیاسی جدوجہد، سماجی خدمت اور مسلسل مزاحمت کے ذریعے عالمی سطح پر الگ مقام بنانا یقیناً ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔آج جب نایاب علی کو ستارہ امتیاز سے نوازے جانے کی خبر سامنے آئی ہے تو مجھے 2015ء کا وہ دن یاد آتا ہے جب ایک نسبتاً غیر معروف سماجی کارکن میرے دفتر میں بیٹھ کر سماجی کاموں اور میڈیا کوریج کی اہمیت پر بات کررہی تھیں۔ اس وقت شاید کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہی نایاب علی آنے والے برسوں میں بین الاقوامی ایوارڈ حاصل کریں گی، انتخابی میدان میں اتریں گی، پالیسی سازی کے عمل کا حصہ بنیں گی اور پھر پاکستان کے اعلیٰ سول اعزازات میں سے ایک کے لیے منتخب ہوں گی۔اوکاڑہ کے لیے یہ واقعی ایک تاریخی اعزاز ہے۔ ایک ایسی بیٹی جس نے اپنے شہر سے سفر شروع کیا، مشکلات کا سامنا کیا، تعلیم حاصل کی، اپنی کمیونٹی کے لیے آواز اٹھائی، سیاسی میدان میں قدم رکھا، عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا اور آج قومی سطح پر ایک بڑے اعزاز کی مستحق قرار پائی٭

