بلوچستان: خاموشی نہیں، جواب چاہیے

انجنیئر حمید بلوچ

بلوچستان کو برسوں سے بندوق، خوف اور طاقت کے ذریعے سنبھالنے کی کوشش کی گئی، مگر ایک حقیقت آج بھی اپنی جگہ موجود ہے: طاقت سے علاقے فتح کیے جا سکتے ہیں، دل نہیں۔

مسنگ پرسنز کا المیہ اس پالیسی کی سب سے تلخ تصویر ہے۔ کسی شہری پر الزام ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔ جرم ثابت ہو تو سزا دی جائے، بے گناہ ہو تو رہا کیا جائے۔ کسی انسان کو برسوں غائب رکھنا قانون کی حکمرانی نہیں، قانون کی بے بسی ہے۔

قومی سلامتی کے نام پر ہر سوال کو غداری اور ہر اختلاف کو دشمنی قرار دینا آسان ہے؛ مشکل یہ ہے کہ ریاست اپنے ہی شہریوں کے سوال کا جواب دے۔

ایک ماں اپنے بیٹے کی تصویر اٹھائے برسوں سڑک پر کھڑی ہو تو اسے خاموش کرانا مسئلے کا حل نہیں۔ ایک نوجوان جب اپنے اردگرد جبری گمشدگیوں، سیاسی بے اختیاری اور محرومی کو دیکھتا ہے تو اس کے دل میں ریاست کے بارے میں سوال پیدا ہوتے ہیں۔ ان سوالوں کا جواب طاقت نہیں دے سکتی۔

بلوچستان کو مزید آپریشنز، نعروں اور نمائشی ترقیاتی منصوبوں سے نہیں بلکہ انصاف، سیاسی اختیار، شفافیت اور برابر کے شہری حقوق سے جوڑنا ہوگا۔

اگر ریاست واقعی مضبوط ہے تو اسے تنقید سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔
اگر قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے تو طاقتور بھی قانون کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔
اور اگر کسی شہری پر جرم ثابت نہیں ہوا تو اسے لاپتہ رکھنے کا جواز کیا ہے؟

ریاست کی اصل طاقت یہ نہیں کہ وہ اپنے شہری کو خاموش کرا دے؛ اصل طاقت یہ ہے کہ وہ اپنے شہری کو انصاف دے کر اپنا اعتماد حاصل کرے۔

بلوچستان کوئی مفتوحہ خطہ نہیں۔
بلوچ کوئی رعایا نہیں۔
اور شہری حقوق کسی ریاست کا احسان نہیں۔

بلوچستان کو فتح کرنے کی نہیں، اس کا اعتماد جیتنے کی ضرورت ہے۔

اور اعتماد کا راستہ ایک ہی ہے:

خوف نہیں—قانون۔
خاموشی نہیں—سچ۔
طاقت نہیں—انصاف۔

اپنا تبصرہ بھیجیں