اسلام آباد (این این آئی) سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اسرائیل کا ایران پر حملہ عالمی قوانین،ایران کے قومی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے، فوری جنگ بندی نہ ہوئی تو ایران کے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اندیشہ ہے جس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ یورپ اور پورے دنیا پر معاشی اثرات مرتب ہونگے۔جاری بیان کے مطابق سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمن نے پیر کو چینی سفیر ڑبانگ زے ڈانگ سے چینی سفارتخانے میں ملاقات کی اور چین پاکستان تعلقات،مشرق وسطیٰ میں ایران اسرائیل جنگ پر تفصیلی گفتگو کی۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے ایران پر حملہ عالمی قوانین اور ایران کے قومی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے، اسرائیل خطے میں اس سے پہلے بھی غزہ،لبنان اور شام پر حملوں کا مرتکب ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسرائیل مسلسل عالمی قوانین کی خلاف ورزی کررہاہے جس میں امریکہ اور یورپ کی پشت پناہی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف نے اسرائیلی وزیراعظم کو جنگی جرائم کا مرتکب قراردیا ہے۔ملاقات میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اگر فوری جنگ بندی نہ ہوئی تو ایران کے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اندیشہ ہے جس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ یورپ اور پورے دنیا پر معاشی اثرات مرتب ہونگے۔دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ مذاکرات کے دوران اسرائیل کا ایران پر حملہ عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔دونوں رہنماؤں نے سفارتکاری کے زریعے فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا۔دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ چونکہ جنگ کا آغاز اسرائیل نے کیا ہے لہٰذا جنگ بندی میں پہل اسرائیل کو کرکے فوری ایران پر حملے بند کرنے چاہئیں اور جواب میں ایران بھی حملے بند کردے۔دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سیکورٹی کونسل کو فی الفور جنگ بندی کی قرارداد کو منظور کرنا چاہئے۔دونوں رہنماوں نے خطے کو پرامن رکھنے کے لئے پرامن زرائع استعمال کرنے پر زور دیا۔ مولانافضل الرحمن نے کہا کہ ایران اسرائیل تنازعہ سے مشرق وسطی اور ایشیا کے زیادہ متاثر ہونے کا خطرہ ہے اس لئے چین اس تنازعے کے سفارتی حل کی کوششوں میں اپنا قائدانہ کردار ادا کرے۔چینی سفیر نے مولانا فضل الرحمان کے فرزند مولانا اسجد محمود کی دہشتگردوں کی طرف سے اغوا کی ناکام کوشش کی مذمت کی اور واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا۔

