کوئٹہ(این این آئی)ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی بیان میں ایرانی حکومت کی طرف سے مہاجرین کے انخلا کے نام پر ہزارہ مہاجرین کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مہاجرین کی ہتک، توہین اور انکے عزت نفس کو مجروح کرنے کو عالمی قوانین، اسلامی اصولوں اور انسانی اقدار کے منافی عمل قرار دیا بیان میں کہا گیا کہ کئی دہائیوں سے اپنے سرزمین سے ہجرت کرنے کے بعد ایران میں پناہ گزین ہوئے جہاں انھوں نے اپنی تمام صلاحیتوں کا استعمال کرکے ایران کی تعمیر و ترقی کے عمل میں پوری دیانتداری کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا مگر جب اسرائیل کے ساتھ جنگ میں ایران کو ہزیمت اور نقصانات اٹھانا پڑے تو ایرانی حکومت اپنی خفت و شرمندگی مٹانے کے لئے ہزارہ مہاجرین کو تختہ مشق بناکر اپنے عوام کو دھوکہ دینے کی سازش کر بیٹھی۰ بیان میں کہا گیا کہ اتنی انسانیت سوز سلوک تو یزید کے دور میں بھی نہیں ہوا تھا کہ معصوم اطفال پر دودھ و خوراک بند کردی جائے بزرگوں اور بیماروں کو ادویات نہ دی جائے تندوروں کو ہزارہ مہاجرین پر روٹی کے فروخت پر پابندی لگائی جائے ایسا سلوک کے بارے میں مہذب اقوام سوچ بھی نہیں سکتی کہ شاہراہوں پر بوڑھے، بچے، نوجوان اور خواتین کی تذلیل کی جاتی ہو۰ بیان میں کہا گیا کہ ایرانی حکومت بین الاقوامی قوانین کے پابند ہے انھیں اپنے ملک سے مہاجرین کے لئے عالمی قوانین کے مطابق راستے کا انتخاب کرنا چاہئیے نہ کہ یک طرفہ ظالماہ و جابرانہ اقدامات کے ذریعے تمام انسانی و اسلامی اقدار کی پائمالی کرکے انسانوں کی توہین و تحقیر کی جائے۰ بیان میں کہا گیا کہ ایرانی حکومت بخوبی آگاہ ہے کہ ہزارہ مہاجرین کی زندگیوں کو فاشسٹ افغان مذہبی حکومت سے سنگین خطرات لاحق ہے اور اسکا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ افغان حکومت کی طرف سے ہزارہ مہاجرین کی آبادکاری سے متعلق کوئی منصوبہ یا پلان ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے نہ ہی افغان ایران بارڈر پر ہزارہ مہاجرین کیلئے کسی قسم کے امدادی کام شروع کیا جاسکا ہے یہ تمام طرز عمل تعصب اور انتہا پسندانہ طرز عمل ثابت کرنے کیلئے کافی ہے۔ بیان میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے اس صورتحال اور لاکھوں ہزارہ مہاجرین کی جبری ایران بدری کے متعلق واضح لائحہ عمل اختیار کرکے زندگی کے خطرات سے دوچار ہزارہ قوم کے تحفظ اور بقاء کیلئے اقدامات کا مطالبہ کیا۔

