جامعہ بلوچستان میں براہوئی، بلوچی اور پشتو زبانوں کے شعبہ جات کی بندش علم دشمنی اور قومی شناخت پر حملہ ہے، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی

کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے مرکزی ترجمان انور بلوچ نے جاری کردہ بیان میں کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے مرکزی صدر سابق سینیٹر نوابزادہ میر اسراراللہ زہری اور مرکزی کابینہ کے اراکین نے جامعہ بلوچستان میں براہوئی، بلوچی اور پشتو زبانوں کے شعبہ جات کی بندش کے حکومتی فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے بلوچستان کی قومی شناخت زبانوں کی بقا اور اعلیٰ تعلیم کے خلاف کھلی سازش اور علم دشمنی قرار دیا ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک کثیر القومی ریاست ہے جہاں ہر قوم کی زبان اس کی شناخت اور ثقافتی ورثے کی ضامن ہے جب دنیا بھر میں ریاستیں اپنی زبانوں کے تحفظ و فروغ کی ضمانت بنتی ہیں وہاں بلوچستان میں اقتدار کے ایوان اور ان کے سرپرست ادارے قومی زبانوں کو تعلیمی میدان سے بے دخل کر کے فکری غلامی مسلط کرنا چاہتے ہیں۔بیان میں کہا کہ محض اس بنیاد پر کہ ان شعبہ جات میں طلبہ کی تعداد کم اور اساتذہ زیادہ ہیں انہیں بند کرنا بدنیتی پر مبنی علمی جبر ہے جو کسی بھی مہذب جمہوری معاشرے میں قابلِ قبول نہیں۔ براہوئی، بلوچی اور پشتو محض بول چال کی زبانیں نہیں بلکہ قومی شناخت فکری آزادی اور بقا کی علامت ہیں۔ان زبانوں پر علمی و تحقیقی دروازے بند کرنا دراصل بلوچستان کی تاریخ اور تہذیبی تشخص پر حملہ ہے۔بیان میں کہا کہ بلوچستان کی جامعات پہلے ہی شدید مالی بحران اساتذہ کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور فیسوں میں مسلسل اضافے کے باعث زبوں حالی کا شکار ہیں ایک طرف نوجوان نسل تعلیم سے دور ہو رہی ہے اور داخلے نصف رہ گئے ہیں تو دوسری جانب حکومت نے 2025-26 کے بجٹ میں اربوں روپے کا سپلیمنٹری بجٹ اور غیر منظور شدہ اسکیمیں رکھ کر وسائل مخصوص ہاتھوں تک محدود کر دیے ہیں۔جبکہ تعلیم جیسے بنیادی شعبے کو نظر انداز کر کے محض 8 ارب روپے مختص کرنا اس سوچ کا عکاس ہے کہ حکمران طبقہ شعور کو پروان چڑھتا نہیں دیکھنا چاہتا۔بیان میں مزید کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) واضح کرتی ہے کہ وہ اپنی قومی زبانوں کی بقا فروغ اور تدریسی و تحقیقی میدان میں ان کی شمولیت کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائے گی اور تمام جمہوری عوامی اور علم دوست قوتوں کے ساتھ ملا کر اس سازش کو ناکام بنائے گی۔ براہوئی، بلوچی اور پشتو کو بول چال تک محدود رکھنے کے بجائے تحقیق، سائنس، نصاب، میڈیا اور پالیسی سازی کی زبان بنایا جائے تاکہ نئی نسل کو اپنی زبان میں جدید علم تک رسائی حاصل ہو اور قومی شعور مضبوط ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں