کوئٹہ (این این آئی) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صوبائی ترجمان کاشف حیدری نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ تاجر برادری اور مہنگائی سے نبردآزما عوام پر ایک اور معاشی حملہ ہے، جس نے متوسط طبقے کی زندگی مزید اجیرن بنا دی ہے۔ یہ بات انہوں نے مرکزی تنظیم تاجران کے علاقائی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل کم ہو رہی ہیں، مگر حکومت اس کے برعکس فیصلے کرتے ہوئے عوام پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے، جو نہ صرف ناقابلِ فہم بلکہ غیر منصفانہ اور عوام دشمن رویہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول مہنگا ہونے کا مطلب صرف نرخوں میں اضافہ نہیں بلکہ ہر گھر کے بجٹ، دکان کی فروخت اور عام شہری کی روزمرہ ضروریات پر براہِ راست اثر ہے۔ سبزی، دودھ، گوشت، آٹا، گھی، ٹرانسپورٹ، اسکول فیس اور دیگر تمام ضروری اشیاء کی قیمتیں اس ایک فیصلے سے متاثر ہوتی ہیں، اور اس کے اثرات مہینوں تک برقرار رہتے ہیں۔ کاشف حیدری نے کہا کہ تاجر پہلے ہی بجلی کے ناقابل برداشت بلوں، 13 اقسام کے غیر منصفانہ ٹیکسز اور غیر یقینی معاشی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں پیٹرول مہنگا ہونے سے کاروباری سرگرمیاں مفلوج ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری لاگت بڑھ رہی ہے جبکہ عوام کی قوتِ خرید کم ہو چکی ہے، جس کے باعث مارکیٹوں میں ویرانی چھا گئی ہے اور تجارت کا پہیہ سست ہو چکا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا حالیہ اضافہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور قیمتوں کے تعین میں شفافیت، عالمی منڈی سے ہم آہنگی اور عوامی فلاح کو اولین ترجیح دی جائے تاکہ معیشت میں استحکام آئے اور عام شہری سکھ کا سانس لے سکے۔

