کوئٹہ(این این آئی) چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا ہے کہ عوام کی خدمت، شفاف طرز حکمرانی، اور کارکردگی ہی افسران کا اصل طرز امتیاز ہونا چاہیے۔ ہمیں یہ ہر وقت یاد رکھنا چاہیے کہ سرکاری افسران کو ملنے والی تمام سہولیات، مراعات اور تنخواہیں غریب عوام کے ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے دی جاتی ہیں، لہٰذا ان وسائل کے امین ہونے کے ناطے ہماری اولین ترجیح عوامی خدمت ہونی چاہیے وہ بلوچستان سول سروس (ایگزیکٹو برانچ) آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس میں صوبے کے نئے تعینات ہونے والے اسسٹنٹ کمشنرز نے شرکت کی تقریب میں سینئر افسران، صوبائی سیکریٹریز اور اعلیٰ ریٹائرڈ افسران بھی شریک ہوئے چیف سیکرٹری بلوچستان نے نئے افسران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک طویل اور صبرآزما مرحلے سے گزر کر اس مقام تک پہنچے ہیں، لیکن یہ کوئی اختتام نہیں بلکہ ایک نئے، وسیع تر اور بامقصد سفر کا آغاز ہے انہوں نے کہا کہ سول سروس میں کامیابی کا انحصار مسلسل سیکھنے، خود کو بہتر بنانے اور عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ہے۔ اگر ہر مرحلے پر خلوص، محنت اور دیانت کے ساتھ کارکردگی نہ دکھائی گئی تو پیچھے رہ جانے کا امکان ہر وقت موجود رہتا ہے انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آج بھی عوام کی اکثریت سروس ڈلیوری سے مطمئن نہیں، لہٰذا افسران کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ترجیحات، رویے اور طرزِ عمل میں وہ تبدیلی لائیں جو عوام کو ریاست کے قریب لا سکے چیف سیکرٹری نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں سرکاری سروس میں بہتری کے لیے ایک جامع اصلاحاتی پیکج کو حتمی شکل دی گئی ہے، جس کی منظوری وزیر اعظم کی زیر صدارت 23 جولائی کو متوقع ہے۔ اس اصلاحاتی منصوبے میں تربیت، کارکردگی کا مؤثر نظام، تنخواہوں میں بہتری، مہارت کی بنیاد پر گروپ بندی اور سروس اسٹرکچر میں تبدیلی جیسے اہم پہلو شامل ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت بھی ان اصلاحات کو اپنانے کے لیے تیار ہے اور انہیں مرحلہ وار بلوچستان سول سروس اکیڈمی اور سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے نافذ کیا جائے گا شکیل قادر خان نے کہا کہ سول سروس کا دائرہ کار اب صرف قانون نافذ کرنے یا روایتی انتظامی کارروائیوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ افسران کو تعلیم، صحت، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، انسداد پولیو مہم، شہری سہولیات، نکاسی آب اور ترقیاتی منصوبوں میں بھی نمایاں کردار ادا کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ یہ امر باعث مسرت ہے کہ اس بار پہلی مرتبہ صوبے کے اسسٹنٹ کمشنرز کی تربیت بلوچستان سول سروس اکیڈمی میں کی جا رہی ہے، جو ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس تربیت کے دوران جدید نظم و نسق، جدید انتظامی نظریات اور ماڈرن پبلک ایڈمنسٹریشن کے اصولوں پر مشتمل ماڈیولز شامل کیے گئے ہیں تاکہ افسران کو موجودہ تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے خطاب کے اختتام پر چیف سیکرٹری نے کہا کہ افسران کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی تمام تر کامیابیاں اور مراعات ریاست اور اس کے عوام کی مرہون منت ہیں، لہٰذا عوامی خدمت کو ہی اپنا مشن بنائیں اور اپنی دیانت، قابلیت اور لگن کے ذریعے صوبے میں مثبت تبدیلی کا باعث بنیں تقریب میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے نئے تعینات اسسٹنٹ کمشنرز سے فرداً فرداً ملاقات بھی کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا قبل ازیں بلوچستان سول سروس (ایگزیکٹو برانچ) آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر مجیب الرحمٰن قمبرانی نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے تمام نئے افسران کو خوش آمدید کہا اور گورننس کی بہتری اور سروس ڈلیوری کے نظام کی فعالیت کے لیے ایسوسی ایشن کے دس نکاتی اصلاحاتی ایجنڈے پر روشنی ڈالی۔

