خوشحال بلوچستان، ترقی یافتہ پاکستان کا خواب ہے: وفاقی وزیر سید عمران احمد شاہ

کوئٹہ(این این آئی) وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ نے کہا ہے کہ خوشحال بلوچستان ترقی یافتہ پاکستان کاخواب ہے یہ بات انھوں نے خواتین کو زراعت کے میدان خودمختار بنانے کے عنوان سے پورٹی ایلیویشن گراسپ کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل۔ صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ درانی سینٹرز،اکابرین اور سول سوسائٹی کے افراد بھی موجود تھے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان بلوچستان کی ترقی میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں ان کی حکم پر بلوچستان کا دورہ کررہا ہوں تاکہ ذاتی طور پر یہاں کے لوگوں خصوصاً بچوں بچیوں کی تعلیمی و مسائل کا جائزہ لیا جائے اور تمام سٹیک ہولڈرز خصوصاً صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر ان کو حل کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ان کا دل ہمیشہ بلوچستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ تخفیف غربت کے حوالے سے ہماری حتی الوسہ کوشش ہوگی کہ بلوچستان کے نوجوان نسل خصوصاً خواتین اور پچیوں کو درپیش مسائل پر بھرپور توجہ دی جائیں، اس مقصد کے لئے انھوں نے وومن یونیورسٹی کے غریب طلبا کے لئے 200 سکالرشپ بلوچستان کے خواتین کے لئے100 سلائی مشین اور 100ویل چیئر فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان بیت المال 15 لاکھ تک کی ہیلتھ کارڈ کی سہولت فراہم کررہی ہے۔ پیغام پاکستان، دختران پاکستان اور صاحبان پاکستان پروگرام مقصد خدمت خلق ہے۔ جو کہ ہمارا دینی اور دنیاوی فرض ہے۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گرد پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کر نے کی کوششیں کررہے ہیں ہمیں اپنے نوجوان نسل کی بہترین تربیت سماجی و مالی مدد فراہم کرکے ان دہشت گردوں کی نرغے میں جانے سے روکنا ہے اور دہشت گردوں کی مذموم مقاصد کو ناکام بنانا ہے انھوں نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ سماجی تحفظ کے ذریعے شمولیتی ترقی نہ صرف لوگوں کی زندگیوں کو بدل دیتی ہے بلکہ غربت کی جڑوں کو بھی براہِ راست نشانہ بناتی ہے۔ وزارت غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ میں ہمارا یقین ہے کہ غربت محض آمدنی کی کمی کا نام نہیں؛ یہ محرومی، مواقع کی عدم دستیابی اور وسائل تک غیر مساوی رسائی کا نتیجہ ہے۔اس ضمن میں میں پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ (PPAF) کی کوششوں کو خاص طور پر اجاگر کرنا چاہوں گا، جو گروتھ فار رورل ایڈوانسمنٹ اینڈ سسٹین ایبل پراگریس پروجیکٹ کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔ یہ چھ سالہ منصوبہ یورپی یونین کی مالی معاونت سے، انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر کے زیرِ انتظام، FAO اور PPAF کی شراکت سے چلایا جا رہا ہے اس منصوبے کا دائرہ سندھ کے 12 اور بلوچستان کے 10 اضلاع سمیت ملک کے کل 22 پسماندہ اور ضرورت مند علاقوں تک پھیلا ہوا ہے۔جسکا اصل مقصد دیہی پاکستان میں غربت کا خاتمہ اور پائیدار و شمولیتی معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ اس کا خاص ہدف یہ ہے کہ خواتین و حضرات کے لیے یکساں آمدنی اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کی پیداواری صلاحیت اور منافع کو بڑھایا جائے جو بنیادی پیداوار، خدمات اور ویلیو ایڈیشن کے شعبوں سے وابستہ ہیں۔جہاں تک حقیقی کامیابیوں کا تعلق ہے، تو وہ ہمارے سامنے ہیں۔ گراسیپ پروگرام کے تحت 399 میچنگ گرانٹس تقریباً 1.52 ارب روپے کی لاگت سے دیے گئے، جنہوں نے دیہی کاروباری افراد کو براہِ راست فائدہ پہنچایا۔ اس منصوبے نے 24 مالیاتی اداروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے،جبکہ 13 مالیاتی اداروں کو کریڈٹ گارنٹی اسکیمز فراہم کرنے میں مدد دی گئی۔ نتیجتاً 22 مالیاتی ادارے اب کو خصوصی مالی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔صلاحیت سازی ہماری حکمتِ عملی کا لازمی جز رہی ہے۔ 1271 افراد کو مالی خواندگی اور کاروباری منصوبہ سازی کی تربیت دی گئی، تاکہ وہ اپنے کاروبار کو پائیدار اور منافع بخش بنا سکیں۔ جسمیں 48 فیصد خواتین کی ملکیت کو مالیاتی اداروں سے جوڑا گیا، جس سے حقیقی مالی شمولیت اور دیہی خواتین کی خود مختاری کو فروغ ملا۔یہ تمام کامیابیاں ثابت کرتی ہیں کہ غربت کا خاتمہ اور شمولیتی ترقی تنہا ممکن نہیں۔ حکومت، عالمی شراکت داروں، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کے درمیان مربوط کوششوں سے ہی ہم ایک ایسا مستقبل بنا سکتے ہیں جہاں ہر پاکستانی کو برابر کے مواقع میسر آئیں۔آخر میں، میں اپنی وزارت کی طرف سے اس عزم کا اعادہ کرتا ہوں کہ ہم ان شراکت داریوں کو مزید مضبوط بنائیں گے، سماجی تحفظ کے نیٹ ورک کو وسعت دیں گے اور گراسپ جیسے پروگراموں کو مزید پھیلائیں گے، تاکہ ہم منصوبہ بندی اور عزم کے ساتھ لوگوں کی زندگیاں بدلیں اور ملک سے غربت کا خاتمہ کر سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں