مقامی افسران اور BPPRA کے افسران ملی بھگت سے من پسند کمپنیوں کو نوازنے کے لیے ٹینڈر اشاعت سے پہلے ہی معاملات طے کر لیتے ہیں، میر نیاز احمد

خضدار(این این آئی) کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیف کوآرڈینیٹر (بلوچستان) میر نیاز احمد نے کہا ہے کہ BPPRA کا قیام اس مقصد کے تحت عمل میں لایا گیا تھا کہ سرکاری اداروں کی خریداری اور ترقیاتی کاموں میں شفافیت، میرٹ، اور مسابقت کو یقینی بنایا جائے، اس کے تحت تمام سرکاری محکمے، بلدیاتی ادارے اور دیگر نیم خود مختار ادارے کسی بھی قسم کے ٹھیکے یا ترقیاتی منصوبے کے لیے BPPRA رولز 2014 کی پابندی کے پابند ہیں۔کسی بھی منصوبے کا آغاز متعلقہ ادارے کے جانب سے ٹینڈر اشاعت سے ہوتا ہے، جو کہ BPPRA کی ویب سائٹ اور اخبارات میں مشتہر کیا جاتا ہے، اس کے بعدکمپنیوں سے بولیاں لی جاتی ہیں، تکنیکی و مالی جانچ کے بعد سب سے مناسب کمپنی کو ٹھیکہ دیا جاتا ہے۔۔BPPRA کی ویب سائٹ پر تمام ٹینڈرز، نتائج اور معاہدوں کی تفصیلات شائع کی جاتی ہیں تاکہ عام شہری اور شراکت دار ادارے بھی ان معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں، تاہم! زمینی حقائق اس عمل کے برعکس ہیں۔متعدد ترقیاتی منصوبوں میں BPPRA قوانین کی خلاف ورزی کی شکایات سامنے آئی ہیں، ذرائع کے مطابق اکثر سرکاری محکمے پہلے سے طے شدہ کمپنیوں کو نوازنے کے لیے ٹینڈر کی شرائط اس انداز سے رکھتے ہیں کہ مخصوص کمپنیوں کے علاوہ کوئی اہل نہ ہو۔ایک سینئر انجینئر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ:مقامی افسران اور BPPRA کے افسران کی ملی بھگت سے من پسند کمپنیوں کو نوازنے کے لیے ٹینڈر اشاعت سے پہلے ہی معاملات طے کر لیتے ہیں، جبکہ BPPRA کی کارروائی صرف رسمی کارروائی بن کر رہ جاتی ہے۔اگر کسی کمپنی کو شکایت ہو تو وہ BPPRA شکایت کمیٹی میں باقاعدہ درخواست دے سکتی ہے، لیکن متعدد شکایات پر کارروائی نہ ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، بعض معاملات میں شکایت کنندگان کو انتقامی کارروائیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔میر نیاز احمد نے مزید کہا کہ BPPRA جیسے اداروں کی افادیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کے قوانین پر مکمل عمل درآمد ہو، اگر حکومتی دباو? یا محکماتی ملی بھگت شامل ہو جائے تو پھر شفافیت صرف کاغذوں تک محدود رہ جاتی ہے۔یہ امر قابلِ غور ہے کہ جب ترقیاتی کام میرٹ کے بغیر دیے جائیں، تو اس کا براہِ راست نقصان عوامی خزانے اور عوامی فلاح کو ہوتا ہے، ناقص میٹریل، تاخیر اور بڑھتے ہوئے اخراجات عوام کے ٹیکس کا زیاں ہیں BPPRA کا کردار اگر مؤثر اور غیر جانبدار ہو تو ترقیاتی منصوبے نہ صرف وقت پر مکمل ہو سکتے ہیں بلکہ ان کا معیار بھی بہتر ہو سکتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ BPPRA کی نگرانی خودمختار ادارے کریں اور ہر ٹینڈر میں شفافیت کی مکمل ضمانت دی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں