عورت فاؤنڈیشن کا بلوچستان میں خواتین, بچیوں پر بڑھتے ہوئے بہیمانہ تشدد کے واقعات پرحکومت سے ایکشن کا مطالبہ

کوئٹہ(این این آئی) عورت فاؤنڈیشن اور EVAWG الائنس کا بلوچستان میں خواتین اور بچیوں پر بڑھتے ہوئے بہیمانہ تشدد کے واقعات پرحکومت سے فوری ایکشن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں حالیہ دنوں میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے پے در پے واقعات نے انسانیت، سماج اور ریاستی تحفظ کے تمام دعوؤں کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے، مستونگ، اوستہ محمد، سریاب، خروٹ آباد اور دیگر علاقوں سے رپورٹ ہونے والے واقعات، جن میں معصوم بچیوں کا گلا گھونٹ کر قتل، غیرت کے نام پر میاں بیوی کا قتل، باپ کا بیٹی سے مبینہ جنسی درندگی اور چچا کی مبینہ چالاکی سے بچیوں کو گھر سے لے جا کر قتل کرنا جیسے واقعات سب بلوچستان کی ایک لرزہ خیز اور افسوسناک تصویر پیش کرتے ہیں کہ ہماری بچیاں، خواتین اور نوجوان لڑکیاں اس صوبے میں کتنی غیر محفوظ ہو چکی ہیں؟۔ یہ واقعات صرف جرائم نہیں بلکہ ریاست کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہیں، جہاں قاتل آزاد گھوم رہے ہیں اور مظلوم انصاف کے لیے ترس رہے ہیں۔بیان میں کہا گیاہے کہ ہم حکومتِ بلوچستان قانون نافذ کرنے والے اداروں، اور پارلیمان سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ ان تمام واقعات کی آزاد اور شفاف تحقیقات کروا کر ملوث ملزمان کو فی الفور گرفتار کیا جائے، انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت ان ملزمان کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں، غیرت کے نام پر قتل اور بچیوں کے قتل کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دے کر سخت سے سخت سزائیں دی جائیں، خواتین اور بچیوں کے تحفظ کے قوانین پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے، قبائلی پرسودہ رسم و رواج کے نام پر خواتین کے خلاف کیے جانے والے جرائم کی روک تھام کے لیے ٹھوس قانونی اور انتظامی اقدامات کیے جائیں، پولیس، عدلیہ اور طبّی نظام کو خواتین کے خلاف تشدد کے کیسز میں تیز رفتار اور حساس بنانے کے لیے خصوصی تربیت دی جائے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ خاموشی جرم میں شراکت داری ہے۔ اس لیے EVAWG الائنس اور عورت فاؤنڈیشن بلوچستان بھر کی سول سوسائٹی، میڈیا، وکلا برادری، علماء کرام، انسانی حقوق کے اداروں، اور عام شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان مظلوموں کی آواز بنیں، اور ایک ایسی عوامی مزاحمتی تحریک کو جنم دیں جو ہر ظالم کو بتا دے کہ “یہ معاشرہ جاگ چکا ہے!”ہماری بیٹیاں، بہنیں، مائیں، محفوظ نہیں تو قوم محفوظ نہیں۔ظلم پر خاموشی نہیں، مزاحمت ہمارا حق بھی ہے اور فرض بھی۔جب تک رویوں میں تبدیلی نہیں آتی اس وقت تک خواتین، بچیوں پر اس طرح کے تشدد ہوتے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں