اوپن مارکیٹوں میں سرکاری نرخنامے کی اہمیت صرف آویزاں ہونے تک محدود

لاہور(این این آئی) اوپن مارکیٹوں میں سرکاری نرخنامے کی اہمیت صرف آویزاں ہونے تک محدود رہی جبکہ دکانداروں نے مختلف جواز پیش کرتے ہوئے سبزیاں اور پھل من مانے نرخوں پر فروخت کئے، گلی محلوں کی سطح پر قائم سبزیوں کی دکانوں میں گراں فروشی اپنے عروج پررہی جس کے ذریعے عوام کا بد ترین استحصال کیا گیا۔ سرکاری نرخنامے میں آلو کچا چھلکا نیا درجہ اول کی قیمت85روپے مقرر کی گئی تاہم دکانداروں نے 100روپے کلو تک فروخت جاری رکھی،آلو کچا چھلکا نیا درجہ دوم 70کی بجائے80،آلو کچا چھلکا درجہ سوم 60کی بجائے70،پیاز درجہ اول55کی بجائے90،پیاز درجہ دوم40کی بجائے60، پیاز درجہ سوم30کی بجائے50،ٹماٹر درجہ اول90کی بجائے120سے130، ٹماٹر درجہ دوم80کی بجائے100، ٹماٹر درجہ سوم75کی بجائے85سے90،لہسن دیسی نیا210کی بجائے280سے 290،لہسن ہرنائی260کی بجائے340سے350،ادرک تھائی لینڈ460کی بجائے680سے700،ادرک چائنہ420کی بجائے580سے620،کھیرا فارمی80کی بجائے100،بینگن100کی بجائے170سے180،بند گوبھی120کی بجائے160سے170،پھول گوبھی150کی بجائے220سے230،شملہ مرچ190کی بجائے230سے250،،بھنڈی170کی بجائے230سے250،شلجم75کی بجائے140 سے 150،اروی100کی بجائے160سے180،مٹر240کی بجائے370سے380،کریلا150کی بجائے200سے210،سبز مرچ110کی بجائے150سے170،لیموں دیسی305کی بجائے430 سے450،ٹینڈے دیسی210کی بجائے270سے280،گھیاکدو200کی بجائے240سے250،پالک فارمی70کی بجائے90،گاجرچائنہ140کی بجائے180سے200 جبکہ گھیا توری100کی بجائے160سے170روپے کلوتک فروخت ہوئی۔پھلوں میں سیب گاچہ درجہ اول265کی بجائے380سے 400، سرکاری نرخ نامے میں سیب سفید کی قیمت مقرر نہیں کی گئی تاہم اوپن مارکیٹ میں درجہ اول330سے350روپے کل فروخت کیا گیا،کیلا درجہ اول درجن210کی بجائے300، کیلا درجہ دوم درجن150کی بجائے180سے200،کیلا درجہ سوم درجن100کی بجائے120سے130،امرود 165کی بجائے 200،انار دیسی نیا270کی بجائے460سے480،آلو بخارادرجہ اول310کی بجائے450سے 470،آلو بخارا درجہ دوم185کی بجائے240سے250،گرما 150کی بجائے180،آڑو درجہ اول270کی بجائے400سے420،آڑو درجہ دوم160کی بجائے220سے230،جامن دیسی کا نرخ مقرر نہیں کیا گیا تاہم اوپن مارکیٹ میں 400روپے کلو تک فروخت کیاگیا،آم انور رٹول210کی بجائے300،آم چونسہ کالا160کی بجائے200،آم چونسہ درجہ اول270کی بجائے330سے350،آم چونسہ درجہ دوم160کی بجائے200سے220،آم فجری145کی بجائے160،پپیتا350کی بجائے380سے 400روپے،خوبانی موٹی300کی بجائے350سے360،ناشپاتی250کی بجائے300، کھجور ایرانی490کی بجائے530سے550،کھجور اصیل460کی بجائے500، انگور سندر خانی 420کی بجائے 600سے 640روپے جبکہ میٹھا درجن 210کی بجائے 280سے 300روپے درجن فروخت کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں