بھاگ(این این آئی)آل پارٹیز ایکشن کمیٹی بھاگ کے رہنماؤں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بھاگ بختیار آباد روڈ ایک اہم شاہراہ ہے جو کہ ایک سنگین سیکیورٹی مسئلہ بن چکی ہے اس روڈ پر آئے دن چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں معمول بن چکی ہیں جو علاقے کے عوام کے لیے باعث تشویش ہے نہ صرف مقامی افراد بلکہ دور دراز سے آنے والے مسافر بھی ان جرائم کا شکار ہو رہے ہیں جرائم پیشہ افراد اکثر روڈ کے مختلف مقامات پر ناکے لگا کر مسافروں جن میں خواتین مریضوں اور دیگر شہریوں کو لوٹ لیتے ہیں ان ڈاکوؤں کی طرف سے کئے جانے والی وارداتوں میں صرف نقدی اور موبائل فونز ہی نہیں بلکہ موٹر سائیکلیں اور قیمتی سامان بھی چھین لئے جاتے ہیں ایک ہی دن میں تین تین مختلف وارداتیں رپورٹ ہوئیں جن میں مسافروں کو لوٹنے کے بعد ڈاکو باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ان واقعات نے علاقے کی عوام میں شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے انھوں نے مزید کہا کہ بختیار آباد لیویز تھانہ کی انتظامیہ اس صورتحال پر مکمل طور پر خاموش ہے اور ان کی جانب سے کسی بھی کارروائی یا کارروائی کی کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی اقدامات کی کمی اور گشت نہ ہونے کی وجہ سے ڈاکوؤں کو کھلی چھوٹ مل چکی ہے اور اس کے نتیجے میں عوام کا اعتماد پولیس اور لیویز کے نظام سے اٹھتا جا رہا ہے اس کے علاوہ ڈاکوؤں کے خلاف سخت کارروائی کی کمی نے انہیں مزید حوصلہ دیا ہے جس کی وجہ سے علاقے میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے آل پارٹیز ایکشن کمیٹی بھاگ کے رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان چیف سیکریٹری بلوچستان کمشنر سبی ڈویڑن اور ڈپٹی کمشنر سبی سے اس سنگین مسئلے پر فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے اور چوروں اور ڈاکوؤں کے خلاف موثر کاروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ دیرپا امن و امان قائم رہے سکے اور تحصیل بھاگ کی عوام سکھ کا سانس لے سکے۔

