کوئٹہ،اسپنی روڈ پر ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت قابل مذمت ہے،کاشف حیدری

کوئٹہ (این این آئی) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صوبائی ترجمان کاشف حیدری نے کہا ہے کہ کوئٹہ کے معروف اور مصروف ترین علاقے اسپنی روڈ پر ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر فائرنگ سے ایک اور نوجوان ذاکر حسین کی ہلاکت نے ایک بار پھر حکومت کی رٹ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں، انہوں نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ اسپنی روڈ پر یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی اسی سڑک پر ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کے کئی واقعات ہو چکے ہیں جن میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد نوجوان شدید زخمی ہوئے، مگر اس کے باوجود نہ تو کوئی پائیدار سیکیورٹی انتظامات کیے گئے اور نہ ہی کسی مجرم کو عوام کے سامنے نشانِ عبرت بنایا گیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مجرموں کے حوصلے مزید بلند اور شہریوں کا اعتماد مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے، کاشف حیدری نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر شہر کی ایک ہی مرکزی شاہراہ پر ایک کے بعد ایک واردات ہوتی ہے، نوجوانوں کو گولیاں مار دی جاتی ہیں اور کوئی عملی اقدام نظر نہیں آتا، تو آخر حکومت کس چیز کا نام ہے؟ پولیس کس بات کی تنخواہ لے رہی ہے؟ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کس غفلت کی نیند سو رہے ہیں؟ اسپنی روڈ پر ہونے والی حالیہ واردات اس طویل سلسلے کی تازہ کڑی ہے، جس میں ایک ہمدرد، بااخلاق، محنتی اور فعال نوجوان ذاکر حسین کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ یہ صرف ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ ایک خاندان کی تباہی، ایک ماں کی اْمید کا قتل، اور معاشرے کے مستقبل پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں بڑھتی ہوئی ڈکیتی، لوٹ مار اور قتل کی وارداتوں نے شہریوں کو شدید خوف، عدم تحفظ اور اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے حکومت عوام کو مکمل طور پر جرائم پیشہ افراد کے رحم و کرم پر چھوڑ چکی ہے، پولیس صرف پروٹوکول، ناکہ بندی اور وی آئی پی ڈیوٹیوں تک محدود ہو چکی ہے جبکہ عام شہری کے تحفظ کا کوئی پرسان حال نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی، اگر وہ واقعی عوام کی خدمت کے لیے کام کر رہے ہیں تو ان کے عملی اقدامات دکھائی دینے چاہئیں۔ کاشف حیدری نے مطالبہ کیا کہ ذاکر حسین کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کر کے نہ صرف انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے بلکہ انہیں عوامی سطح پر عبرتناک سزا دی جائے تاکہ جرائم پیشہ عناصر کو سخت پیغام ملے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور پولیس نے اس واقعے کو بھی حسبِ روایت نظرانداز کیا تو تاجر برادری عوام کے ساتھ مل کر بھرپور احتجاج پر مجبور ہو جائے گی اور اس احتجاج کی تمام تر ذمہ داری حکومتی غفلت اور مجرمانہ خاموشی پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ صرف ذاکر حسین نہیں بلکہ ہر وہ فرد جو اسپنی روڈ یا کوئٹہ کے کسی بھی حصے میں جرائم کی بھینٹ چڑھا، اس کے پیچھے ایک ناقص سیکیورٹی نظام، کمزور پولیسنگ اور حکومتی بے حسی کا ہاتھ ہے، جسے اب بند ہونا چاہیے۔ شہریوں کو تحفظ دینا حکومتِ وقت کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، اور اگر وہ اس ذمہ داری سے غافل رہے تو عوام کو سڑکوں پر نکلنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ آخر میں کاشف حیدری نے شہید ذاکر حسین کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، شہید کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور انصاف کی جدوجہد آخری حد تک جاری رکھی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں