کوئٹہ(این این آئی)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ پاکستان سٹیل ملز کی بحالی کیلئے پاکستان اور روس کے مابین انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اینڈ کنسٹرکشن(ای پی سی) معاہدہ ہوگا اس معاہدے کیلئے 15ستمبر تک فزیبلٹی سٹڈی مکمل کر لی جائے گی. یہ فزیبلیٹی سٹڈی روس کی کمپنی تیار کرے گی اور اس پر آنے والی لاگت بھی روسی کمپنی برداشت کرے گی پاکستان سٹیل ملز کی بحالی کیلیے روس اور پاکستان کے مابین پروٹوکول پر جولائی میں دستخط کیے گئے ہیں حکومت اسٹیل ملز کی بحالی کے ذریعے ملک میں صنعتی انقلاب لا سکتی ہے اسٹیل ملز کو دیوالیہ ہونے تک پہنچانے والے دراصل اس بیش قیمت قومی اثاثے کو اونے پونے داموں خریدنے کے منصوبے بنانے میں مصروف عمل رہے حکومت اسٹیل ملز کو ایسے جرائم پیشہ افراد اور مافیاز سے بچانے کیلئے ہر ممکن اقدامات بروئے کار لائے تاکہ ادارہ اپنی کھوئی ہوئی ساکھ دوبارہ حاصل کر سکے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوارمحمد عبدالقادر نے کہا کہ نئی پاکستان سٹیل ملز کے قیام کیلیے 700 ایکٹر کی سٹیل ملز کی اراضی مختص کر دی گئی ہے. پاکستان سٹیل ملز کی مکمل بحالی پر ایک سال کا عرصہ لگ سکتا ہے سٹیل ملز کی بحالی کی صورت میں پاکستان کو چارارب ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت ہوگی اور پاکستان کو ساڑھے تین سے چار ارب ڈالر کے سٹیل کی درآمد پر خرچ میں بچت ہوگیپاکستان اسٹیل ملز ایک بار پھر سال 2026 میں پیداوار شروع کر دے گی جس سے پاکستان کی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کی رفتار تیز ہو جائے گی پاکستان اسٹیل ملز کو ہر قسم کی بدعنوانی اور بد انتظامی سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہوگی تاکہ یہ قومی اثاثہ کسی بحران کا شکار نہ ہو سکے بد قسمتی سے ماضی کی حکومتوں کے دوران اسٹیل ملز میں سیاسی بنیادوں پر بلا ضرورت ہزاروں بھرتیاں کی گئیں جن کی وجہ سے ادارہ بوجھ تلے دبتے دبتے بند ہو گیا۔

