ذاکر حسین ہزارہ کے قتل پر کوئٹہ میں احتجاج، سیکیورٹی اداروں کی موجودگی کے باوجود عوام غیر محفوظ ، سیاسی و سماجی رہنماؤں کا خطاب

کوئٹہ(این این آئی)نیشنل پارٹی مری آباد اور ہزارہ ٹاؤن کے زیر اہتمام زاکر حسین ہزارہ کے قتل کے خلاف جمعرات کو پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیااحتجاجی سے نیشنل پارٹی کے مرکزی سنیئر نائب صدر میر شاوس حاصل بزنجو جماعت اسلامی کے صوبائی امیر و رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ مرکزی ترجمان علی احمد لانگو صوبائی جنرل سیکرٹری ایڈوکیٹ چنگیز حء بلوچ رکن مرکزی کمیٹی ڈاکٹر رمضان ہزارہ عیوض علی کشتمند اور ریاض زہری نے خطاب کرتے ہوئے چوروں کے ہاتھوں ذاکر حسین ہزارہ کے قتل کے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دن دہاڑے نوجوان کو گولی مار کر زندگی چھین لی جاتی لیکن انتظامیہ و پولیس خود کو لاتعلق رکھتی ہے۔جو نہ صرف ناقابل افسوس ہے بلکہ شدید طور پر قابل مذمت ہے۔رہنماوں نے کہا کہ اربوں روپے امن و مان کے نام ریلیز کیئے جاتے ہیں کوئٹہ کے ہر چوک میں پولیس و دیگر سیکورٹی ادارے موجود ہیں لیکن پھر بھی عوام کی جان و مال محفوظ نہیں۔رہنماوں نے کہا کہ کچھی سمیت نصیر آباد ڈویژن میں چور سڑکوں میں آتے ہیں اور لوٹ مار کرتے ہیں۔لیکن کوئی روک تھام نہیں رہنماؤں نے کہا کہ جو مینڈیٹ چوری کرکے اسمبلی اور حکومت کو پہنچے ہیں جب سرکاری پوسٹوں میں تعنیاتی پیسوں کے زریعے ہو تب امن نہیں آئے گا بلکہ عوام کا خون بہایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ نیٹ ورک بند کرنا اور پانچ بجے کے بعد سفر کرنے کی اجازت نہ دینا حکومت خود کی ناکامی کا اعتراف کررہی ہے۔احتجاجی مظاہرے سے قاتلوں کی جلد گرفتاری اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں