سانحہ 8 اگست 2016: کوئٹہ بار کے 74 وکلاء کی شہادت قومی المیہ ہے ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی

کوئٹہ (این این آئی)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کی مرکزی سیکریٹریٹ کے جاری کردہ بیان میں سانحہ 8 اگست 2016کے وکلاء کی شہادت کے دن کو ایک عظیم سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس دن کوئٹہ بار کے 74 ممتاز وکلاء کو دہشتگرد حملے میں شہید کیا گیا اور 100 سے زائد وکلاء کو شدید زخمی کیا گیا اس سانحے کے نتیجے میں پشتون بلوچ صوبہ کے تقریباً تمام سینئر وکلاء کا خاتمہ کرکے پشتون بلوچ عوام کو عدل و انصاف کی وکلاء جیسے اہم ادارے سے محروم کیا گیا اس سانحہ میں بلال انور کاسی، باز محمد کاکڑ، قاہر شاہ، سنگت جمالدینی، عدنان کاسی،غنی جان آغا، عسکرخان اچکزئی، سید ضیاء الدین آغا، ایمل خان وطنیار، غلام فاروق بادینی، سرفراز شیخ اور غلام حیدر کاکڑ جیسے ممتاز وکلاء شہید ہوئے جنہوں نے ملک میں آئین و قانون کی حکمران اور عدل و انصاف کی نظام کیلئے پرافتخار جدوجہد کی تھی اس سانحے کی تحقیقات کیلئے جسٹس فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تحقیقاتی جوڈیشل انکوائری کمیشن قائم ہوا جس نے 54 دنوں میں 110 صفحات پر مشتمل رپورٹ 13 دسمبر 2016 کو شائع کیااس تاریخی تحقیقاتی رپورٹ میں 8 اگست کی وکلاء کی شہادت کے سانحے کو ریاستی دہشتگردی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ 2001 سے 2016 تک تمام ملک میں 17 ہزار سے زائد دہشتگردی کے واقعات ہوئے ہیں جس میں تقریباً 3000 سے زائد واقعات بلوچستان میں ہوئے ہیں یہ تمام واقعات کی اصل ذمہ داری سیکورٹی اداروں پر عائد ہوتی ہے اور دہشتگرد تنظیموں کے رہنما اعلانیہ طور پر ملک میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں اور وفاقی وزراء اور سیکورٹی اداروں کے ذمہ دار آفیسران کی پشت پناہی اْن کو حاصل رہی ہے فائز عیسیٰ نے صوبے کی وکلاء کی سانحے کی ازالہ کرنے کیلئے وکلاء کی ایک نئی نسل کو تربیت دینے، متاثرہ خاندانوں کی داد رسی کرنے اور دہشتگردی کے مؤثر روک تھام کی اقدامات کیلئے سفارشات پیش کیئے لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے متعین کردہ جج کی انکوائری رپورٹ پرعملدرآمد کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا اور سیکورٹی اداروں نے فائز عیسیٰ کی رپورٹ کو یکسر نظرانداز کیا فائز عیسیٰ رپورٹ میں حکومتی اداروں کی ناکام کارکردگی کی واضح نشاندہی کی گئی تھی اور دہشتگردی کے واقعات کو ریاستی دہشتگردی قرار دیا تھا یہی وجہ تھی کہ حکومتی اور سیکورٹی اداروں نے سانحہ 8 اگست کی اس تاریخی تحقیقاتی رپورٹ پر عمل نہ کرتے ہوئے نظرانداز کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وکلاء کی شہادتوں کے بعد بھی پشتونخوا وطن اور بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات تواتر کے ساتھ جاری ہے جس میں ہزاروں بے گناہ عوام کا خون ناحق بہایا گیا ہے ریاستی دہشتگردی پشتونخوا وطن کے تمام علاقوں پر مسلط کی گئی اور دہشتگردی کے نام پر 21 فوجی آپریشنوں کے بعد 22 واں فوجی آپریشن آج بھی پشتونخوا وطن کے تمام علاقوں میں جاری ہے جس کا مقصد پشتون عوام کو فوجی طاقت سے اپنے علاقوں سے بیدخل کرکے پشتونخواوطن کے قیمتی معدنیات کے ذخائز، جنگلات اور زرخیز زمینوں پر استعماری قبضہ قائم کرنے ہے جبکہ پشتونخوا وطن کے غیور عوام نے اپنے محبوب و طن کی دفاع اور اپنے قومی وجود کی بقاء کی مردانہ وار جدوجہد کو جاری رکھا ہے۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ فائز عیسیٰ کے تحقیقاتی رپورٹ کے تمام سفارشات پر عملدرآمد کو یقینی بنائے اور وکلاء بار ایسوسی ایشن کے برحق مطالبات کو تسلیم کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں