خضدار(این این آئی) بلوچستان کے ضلع خضدار میں محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) کو نااہل اور جاگیردار افسران نے اپنی ذاتی جاگیر بنا لیا، جہاں گزشتہ 15 سالوں سے ایگزیکٹو افسران کی تبدیلی تک کا نام و نشان نہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ افسران محکمے کے “مالک” بن بیٹھے ہیں اور جونیئر افسران کو اعلیٰ عہدوں کا چارج دے کر ضلع کو “تجربہ گاہ” بنا دیا گیا، جو خضدار کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔مقامی شہریوں نے انکشاف کیا کہ محکمہ مواصلات و تعمیرات، جو عمارتوں، سڑکوں، پلوں اور دیگر تعمیراتی منصوبوں کی ذمہ دار ہے، اب افسران کی ذاتی ملکیت کی طرح چلایا جا رہا ہے۔ ایک شہری نے بتایا کہ “15 سال سے ایک ہی افسران قابض ہیں۔ جونیئر افسران کو ایگزیکٹو کا چارج دے کر ضلع کی ترقی کو روندا جا رہا ہے۔ یہ طرز حکمرانی سمجھ سے بالا تر ہے اور خضدار کے ساتھ مذاق بند کیا جائے، آخر سیکریٹری مواصلات کو ہر ضلع میں تبدیلی کی فکر بے قرار کیئے رکھتا ہے لہکن یہ خضدار میں آکر ان کی فکر مردہ بن جاتی ہے، خضدار کے شہری اس کو کیا سمجھیں؟، لاوارث خضدار یا محکمہ؟۔”شہریوں کا کہنا ہے کہ اس ناقص انتظامیہ کی وجہ سے تعمیراتی منصوبے تاخیر کا شکار ہیں، فنڈز کا بے دریغ غلط استعمال ہو رہا ہے اور عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ایک مقامی تاجر نے شکایت کی کہ “سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں، لیکن یہ جاگیردار افسران اپنی کرسیوں سے ہلنے کا نام نہیں لیتے۔ یہ بدعنوانی کی ایسی شکل ہے جو خضدار کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔”بلوچستان حکومت اور متعلقہ حکام سے زور دار مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس”جاگیردارانہ” نظام کا فوری خاتمہ کیا جائے۔ شہریوں نے افسران کی تبدیلی کی پالیسی پر عمل درآمد، اور محکمے میں شفافیت لانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ “یہ مذاق اب ختم ہونا چاہیئے۔ خضدار کے لوگ مزید برداشت نہیں کر سکتے۔مزید انکشافات, اب اسکینڈل کی گہرائی تک جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایسے درجنوں اسکیمات کی نشاندہی کی جائے گی جو ان نااہل اور جاگیردار افسران کی وجہ سے ناکارہ ہو چکی ہیں، اور خضدار کے عوام کا پیسہ ضائع کیا جا رہا ہے۔ حکام کی جانب سے ابھی تک اس سنگین معاملے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو مقامی لوگ بڑے پیمانے پر احتجاج پر اتر آئیں گے۔ حکومت سے فوری کارروائی کی توقع ہے تاکہ ضلع کی تباہی روکی جا سکے اور عوام کے پیسوں کی بازیابی یقینی بنائی جا سکے اور محکمہ سی اینڈ ڈبلیو خضدار میں جاگیر دارانہ و ملوکیت والے تسلسل کا خاتمہ کیا جاسکے۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
تازہ ترین
- قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن ملکی سیاست کے محور اور سچے رہنماء ہیں، میر یونس عزیز زہری
- کوئٹہ میں گیس لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے،مولانا عبدالرحمن رفیق
- شاہراہوں پرلوٹ مار،بارڈرزبندش سے حالات خراب ہرگھروخاندان بری طرح متاثر،مولانا ہدایت الرحمن بلوچ
- بلوچستان میں گورنر راج کی حمایت نہیں کریں گے،سینیٹر مولاناعبدالواسع
- بلوچستان حکومت کی صحت کی سہولیات عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے اہم پیش رفت، ”صحت دہلیز“ ایپ فعال
- نامساعد حالات کے باوجود ترقیاتی منصوبوں کو جاری رکھنا اور انہیں تکمیل کی جانب لے جانا قابلِ تحسین اقدام ہے،میر سلیم کھوسہ
- سردار نظام خاتمے، نواب،سردار لفظ بولنے اور لکھنے سے متعلق قرارداد جمع، (آج)بلوچستان اسمبلی میں پیش کی جائیگی
- سوڈان میں بازار پر ڈرون حملہ، 53 افراد ہلاک؛ خواتین اور بچے بھی نشانہ بن گئے
- جے ڈی وینس کا اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی حمایت سے انکار، لاتعلق رہنے کا اعلان کردیا
- سعودی عرب اور حوثیوں نے ایرانی ثالثی کی پیشکش کا جواب نہیں دیا، عباس عراقچی

