بلوچستان صوبائی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کا اجلاس

کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان صوبائی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (S&GAD) کا اجلاس اسمبلی کمیٹی روم میں چیئرمین کمیٹی سید ظفر علی آغا کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین میر جہانزیب مینگل، شاہدہ رؤف، عبدالمجید بادینی، اسپیشل سیکرٹری اسمبلی عبدالرحمن اور اسپیشل سیکرٹری S&GAD سید حبیب الرحمن نے شرکت کی۔اجلاس میں 5 مئی 2025 کو اٹھائے گئے سوالات پر متعلقہ محکمے کی جانب سے جوابات پیش کیے گئے۔اجلاس میں سرکاری کوارٹرز اور ان میں رہائش پذیر ملازمین سے متعلق معاملات زیر بحث آئے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ موصولہ شکایات پر انکوائری عمل میں لائی جاتی ہے اور اگر غیر متعلقہ افراد کو کوارٹرز میں رہائش پذیر پایا جائے تو ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ چیئرمین نے ہدایت دی کہ S&GAD چونکہ نہایت اہم محکمہ ہے، لہٰذا اس کی آمدنی اور انتظامی کنٹرول سے متعلق مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کی جائیں۔اراکین نے اس پر تشویش کا اظہار کیا کہ کئی کوارٹرز غیر متعلقہ افراد کو الاٹ کیے گئے ہیں اور بعض فلیٹس گریڈ 19 کے ملازمین کے لیے مختص ہونے کے باوجود گریڈ 16 کے ملازمین کو دیے گئے ہیں، جس سے مستحق افسران محروم ہو رہے ہیں۔ کمیٹی نے دو ہفتوں کے اندر تمام الاٹمنٹ کی تفصیلی فہرست فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ چیئرمین نے مزید نشاندہی کی کہ بعض کوارٹرز کو ملا کر ایک ہی فرد کو الاٹ کرنا انتظار کی فہرست میں شامل ملازمین کے حق تلفی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام اپنی شکایات اراکین اسمبلی تک پہنچاتے ہیں اور ان مسائل کے حل کو یقینی بنانا کمیٹی کی ذمہ داری ہے۔اجلاس میں صوبے میں تعینات اسسٹنٹ کمشنرز کے حوالے سے سوالات زیر غور آئے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبے میں کل 88 اسسٹنٹ کمشنرز تعینات ہیں۔ اراکین نے تشویش ظاہر کی کہ ترقیوں کے باعث پیدا ہونے والی کمی کو پورا کرنے کے لیے بعض تحصیلداروں کو بطور قائم مقام اے سی تعینات کیا گیا ہے، جو عدالتی احکامات کے خلاف ہے۔ چیئرمین نے کہا کہ اس وقت تقریباً 19 تحصیلدار بطور اے سی کام کر رہے ہیں جبکہ او ایس ڈی اسسٹنٹ کمشنرز کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ کمیٹی نے ان افسران کی تفصیلی فہرست طلب کرنے کی ہدایت کی۔بلوچستان ہاؤس اسلام آباد اور کراچی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے۔ اراکین نے وہاں تعینات ملازمین کے ڈومیسائل، پوسٹوں اور تقرری کے طریقہ کار سے متعلق مکمل معلومات طلب کیں۔ چیئرمین نے کہا کہ کئی ملازمین بلوچستان ہاؤس میں تعینات ہونے کے باوجود دیگر اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، اس لیے ان کی فہرست کمیٹی کو فراہم کی جائے۔اجلاس میں بلوچستان ہاؤس اسلام آباد کی گاڑیوں، ان کے استعمال کنندگان اور وہاں کی مجموعی آمدنی سے متعلق تفصیلات بھی طلب کی گئیں۔ چیئرمین نے ہدایت دی کہ رہائشی فلیٹس میں مقیم افراد اور واجبات ادا نہ کرنے والوں کی تفصیلات پیش کی جائیں، بصورت دیگر ایسے افراد کے نام اسمبلی فلور پر بے نقاب کیے جائیں گے۔بلوچستان ہاؤس کراچی کے حوالے سے بتایا گیا کہ بعض افراد کو میٹریسز فراہم کیے جاتے ہیں لیکن وہ کمرے کے باہر سوتے ہیں اور اس سے حاصل شدہ رقم سرکاری خزانے میں جمع نہیں کی جاتی۔ چیئرمین نے اس پر انکوائری کی ہدایت دی۔ اسی طرح بلوچستان ہاؤس اسلام آباد میں بھی غیر قانونی رہائش اور ریونیو کی عدم ادائیگی کی شکایات کا نوٹس لیا گیا۔چیئرمین نے کہا کہ اگر S&GAD اپنے اثاثہ جات کو درست انداز میں استعمال کرے تو کھربوں روپے مالیت کی جائیدادوں سے خطیر آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔ آخر میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام مطلوبہ فہرستیں اور تفصیلات فراہم کرنے کے بعد کمیٹی کا دوبارہ اجلاس طلب کیا جائے گا جبکہ محکمے کو ہدایت دی گئی کہ گاڑیوں کی اصل فہرست بھی آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں