کوئٹہ(این این آئی) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ پاکستان میں گھروں کے چولہے گرم رکھنے کے علاوہ صنعتی مقاصد کیلئے بھی گیس کئی عشروں تک انتہائی سستے ایندھن کے طور پر استعمال ہوتی رہی تاہم نئے ذخائر کی تلاش میں خاطر خواہ کامیابی نہ ہونے کی وجہ سے گیس کی قلت کا مسئلہ پیدا ہوا جس میں مسلسل شدت آتی گئی حتیٰ کہ 2009ء میں گیس کے نئے کنکشنوں پر پابندی عائد کرنا پڑی اس پابندی کو چھ سال بعد جزوی طور پر اٹھالیا گیا لیکن 2022ء میں گیس کی قلت بہت زیادہ بڑھ جانے کی وجہ سے دوبارہ پابندی لگانا پڑی اب حکومت اس بات پر تقریباً آمادہ ہے کہ نئے گیس کنکشن درآمدی ری-گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی قیمت پر دیے جائیں، جو موجودہ شرح کے مطابق تقریباً 3 ہزار 900 روپے فی ملین برٹش تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو) ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہاکہ گیس کنکشنز کا پہلے سال کا ہدف ایک لاکھ 20 ہزار کنکشنز ہوگا ان درخواست گزاروں کو ترجیح دی جائیگی جنہیں پہلے ڈیمانڈ نوٹس جاری کیے گئے تھے یا جنہوں نے ایمرجنسی فیس ادا کی تھی، لیکن بعد میں وہ عائد پابندی کی وجہ سے کنکشن حاصل نہیں کرسکے اگلے سال یہ تعداد مزید بڑھا دی جائیگی۔ نئے صارفین کو یہ سہولت اگرچہ نسبتاً زیادہ مہنگے داموں دستیاب ہوگی لیکن ملک میں لاکھوں کم آمدنی والے صارفین فی الوقت جو مائع پٹرولیم گیس استعمال کررہے ہیں اسکی قیمت تقریباً 5 ہزار 300 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہے جبکہ نئے کنکشن سے پائپ کے ذریعے ملنے والی ایل پی جی انہیں چالیس فی صد تک سستی ملے گی۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے مزید کہا ہے کہ سستے ایندھن کی خاطر گیس کے نئے ذخائر کیلئے مزید سرگرم کوششیں ضروری ہیں تاکہ عام صارفین کی زندگی بھی آسان ہو اور عالمی منڈیوں میں ملکی مصنوعات کی مسابقت کی صلاحیت بھی بڑھ سکے حکومت نے نہیں بتایا کہ ان ایک لاکھ بیس ہزار گیس کنکشنز میں سے صوبہ بلوچستان کے کتنے درخواست گزاروں کو ترجیحی بنیادوں پر دیے جائیں گے اگر یہ تعداد واضح نہ کی گئی تو بلوچستان کے درخواست گزاروں کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہوگی اور انکے احساس محرومی میں اضافہ ہو گا بلوچستان میں صورتحال پہلے ہی بہتر نہیں ہے اس لئے اس موقع سے بلوچستان کے لوگوں کو نظر انداز کرنا انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

