30 لاکھ آبادی کے لیے صرف 8 بسیں ناکافی ہیں، پشتمیپ

کوئٹہ(این این آئی) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی پریس ریلیز میں کوئٹہ شہر میں گرین بسز کی تعداد میں کمی کے باعث شہریوں کو درپیش مشکلات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ گرین بسز منصوبے کے تحت شہریوں پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے سہولیات فراہم کرنا تھا اور پہلے مرحلے میں 8بسزشہر کے مختلف روٹس پر شروع کی گئی لیکن بدقسمتی سے 30لاکھ سے زائد آبادی کے لیے محض 8بسز کی تعداد انتہائی کم ہے۔ بلیلی پوائنٹ سے نکلنے والی ایک بس تقریباً 20منٹ کے وقفے سے نکلتی ہے اور اس پر 100سے زائد لوگوں کا ہجوم رہتا ہے اور بمشکل چند ہی سواریاں نشستوں پر باقی تمام سواریاں کھڑے رہتے ہیں۔ اوور لوڈ ہونے کے شہر کے دیگر روٹس پر شہری بس سٹاپ پر صرف انتظار ہی کرتے ہیں۔ اسی طرح بسز کے بعض ڈرائیورز، کلینڈرز کی ملی بھگت سے ایک سازش کے تحت اس گرین بسز کو ناکام بنایاجارہا ہے۔ شہریوں سے بدتمیزی، بد اخلاقی، اوور لوڈنگ، جیب کترے اور قانون کی پاسداری نہ کرنے جیسے اقدامات سے شہریوں میں غم وغصہ پایا جاتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ گرین بسز کی تعداد میں ہنگامی بنیادوں پر اضافہ کرتے ہوئے روٹس میں توسیع کی جائے بلیلی کی بجائے اسے کچلاک بازار پوائنٹ رکھا جائے اور وہاں سے لیکر کوئٹہ شہر کے دیگر روٹس کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔ اور ہر دس منٹ بعد ایک بس چلایا جائے۔ بہترین پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کے لیے ضلعی انتظامیہ اور حکومت آبادی کو مد نظر رکھتے ہوئے گرین بسز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کرے اورکچلاک تا ہزار گنجی روٹ، کچلاک تا شیخ النہیان ہارٹ ہسپتال ہنہ بائی پاس روٹ، کچلاک تا شیخ زائد ہسپتال مستونگ روڈ روٹ، کچلاک تاتختانی بائی پاس بہ راستہ پشتون آباد یا سرکی روڈ تک اضافہ کیا جائے تاکہ کوئٹہ شہر کے دیگر عوام بھی اس سہولت سے مستفید ہوسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں