کوئٹہ میں ٹریفک پولیس کی لوٹ مار ناقابل برداشت، عوام کی محنت کی کمائی چالان کی نذر، پشمولی پارٹی

کوئٹہ (این این آئی) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ شہر میں ٹریفک پولیس کی لوٹ مار ناقابل برداشت ہوچکی ہے، ٹریفک پولیس کے حکا م کے مطابق 78لاکھ چالان کی مد میں وصول کیا گیا جو کہ غریب عوام کے خون پسینے محنت کی حلال کمائی تھی۔ سینکڑوں لوگ ٹریفک پولیس، عدالت، ایکسائز کے دفاتر کے چکر لگارہے ہیں، جرائم پیشہ عناصر، منشیات فروشوں، چوروں، ڈاکوؤں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی بجائے پولیس عوام کے جیبوں کو لوٹنے پر اُتر آئی ہے۔ دستاویزات کے نام پر ہر چوک، سڑک پر ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کا ہجوم غریب عوام کو تنگ وہراساں کرنے اور ان کی سواریوں کو ضبط کرکے 550کے کیسز بنارہے ہیں۔ ہزاروں روپے کے جرمانے کی صورت میں لاکھوں روپے ٹریفک پولیس نے اکھٹے کئے لیکن ٹریفک کا نظام درہم برہم ہے۔ ایسے غریب لوگ موجود ہیں جو 5ہزار کا جرمانہ بھی نہیں بھر سکتے اور ان کی موٹر سائیکلیں ایوب سٹیڈیم میں ٹریفک پولیس نے جمع کردیئے ہیں۔ وہ شہری جو صبح اپنے بچوں کو سکول لیجاتا،گھریلو ضروریات کے لیے موٹر سائیکل کسی بڑی سواری سے کم نہ تھی لیکن آج موٹر سائیکل کی بندش کے باعث نہ صرف بچے سکول جانے سے قاصر بلکہ ان کے معاملات زندگی بھی شدید متاثر ہورہے ہیں۔ وفود کی شکل میں سائلین پارٹی دفتر آتے ہیں اور ٹریفک پولیس کی شکایت اور اپنی مشکلات بیان کرتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ موٹرسائیکلوں، گاڑیوں کی دستاویزات مکمل کرنے، لائسنس رکھنا شہریوں کی ذمہ داریوں میں شامل ہے شہر کے ٹریفک نظام کی درستگی میں شہریوں کا تعاون ضروری ہے لیکن یہ تب ممکن ہے جب ٹریفک پولیس جاری لوٹ مار کا سلسلہ ترک کریگی۔ بیان میں آئی جی پولیس، ڈی آئی جی پولیس، ایس پی ٹریفک پولیس، ایس پی آپریشن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ عوام کو تنگ کرنے اور ٹریفک پولیس کی جاری سرگرمیاں جو کہ عوام دشمنی کا باعث بن رہی ہے کا سلسلہ فوری ترک کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں