ٹھیکیدارمحمد علی ہزارہ کا قتل انتہائی دلخراش اور افسوسناک واقعہ ہے،کاشف حیدری

کوئٹہ (این این آئی) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صوبائی ترجمان کاشف حیدری، رکن صوبائی کونسل عزت اللہ کاظمی، سلیمان علی، منظور حسین، عبدالحمد لالا، علی مدد حیدری، محمد علی، نجیب اللہ، عرفان حیدری، محمد ہادی و دیگر نے کہا ہے کہ گزشتہ ٹھیکیدار محمد علی ہزارہ کا مستونگ کے علاقے دشت میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل انتہائی دلخراش اور افسوسناک واقعہ ہے جس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں ڈاکوؤں کی وارداتیں اور ڈکیتی کے واقعات عروج پر ہیں۔ تدارک کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ یہ بات انہوں نے اپنے مشترکہ جاری کردہ بیان میں کہی۔ انہوں نے کہاکہ شہری اپنی جان و مال کے حوالے سے شدید عدم تحفظ کا شکار ہو گئے ہیں۔ آئین پاکستان ہر شہری کی جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے مگر بدقسمتی سے یہاں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی تمام تر توجہ غیر رجسٹرڈ موٹر سائیکلوں کو پکڑنے پر مرکوز ہے جبکہ دوسری طرف یہی ڈاکو دن دہاڑے موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر شہریوں کو لوٹنے اور قتل کرکے باآسانی فرار ہو جاتے ہیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ اگر پولیس صرف غریب عوام کو ہراساں کرنے اور چالان کاٹنے میں مصروف رہی تو کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہوگی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اسپنی روڈ پر شہید ذاکر حسین کے قاتل گرفتار کئے گئے؟ جواب آج بھی نفی میں ہے، اسی طرح کیا آج کے واقعے میں شہید ٹھیکیدار محمد علی ہزارہ کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے گا یا یہ واقعہ بھی دیگر سانحات کی طرح فائلوں کی نذر کر دیا جائے گا؟ اگر قاتلوں کی گرفتاری عمل میں نہ آئی تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوگی کہ امن و امان کے نام پر اربوں روپے خرچ کرنا عوام کے ساتھ ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے جرائم نے نہ صرف عام شہریوں کو غیر محفوظ کر دیا ہے بلکہ تاجر برادری بھی شدید خوف اور بے چینی میں مبتلا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شہید محمد علی ہزارہ کے گرفتار قاتلوں کو قرار واقعی سزا اور دیگر ساتھیوں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں