جعفرآباد(این این آئی)ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان نے کہا ہے کہ قدرتی آفات بالخصوص سیلاب کا براہِ راست مقابلہ انسانی سکت سے باہر ہے، تاہم مؤثر منصوبہ بندی، بروقت اقدامات اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے ان کے نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔ سندھ سے آنے والے ممکنہ سیلابی ریلوں اور غیر متوقع بارشوں کے پیش نظر جعفرآباد ضلعی انتظامیہ نے پیشگی حفاظتی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں عوام کی جان و مال کو محفوظ بنایا جا سکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع جعفرآباد میں مختلف سیلابی گزرگاہوں اور ندی نالوں کا معائنہ کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے سندھ بلوچستان قومی شاہراہ اور بائی پاس روڈ پر واقع پلوں اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کا بھی جائزہ لیا۔ معائنے کے دوران ایگزیکٹو انجینئر روڈز جعفرآباد بوستان خان چانڈیو اور متعلقہ افسران بابو عمران رند بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر خالد خان نے موقع پر موجود آفیسران کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام سیلابی راستوں کو فوری طور پر کلیئر کیا جائے، کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا بندش کو ہنگامی بنیادوں پر ہٹایا جائے تاکہ پانی کی قدرتی روانی میں رکاوٹ نہ آئے اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے دوران پانی محفوظ طریقے سے گزر سکے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ مکمل الرٹ ہے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ تمام متعلقہ محکمے، خصوصاً محکمہ انہار، روڈز، میونسپل کمیٹی اور ریسکیو ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیں تاکہ اگر کوئی ہنگامی صورتحال پیدا ہو تو فوری ردعمل کے ذریعے عوام کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلوچستان کی ہدایات کے مطابق تمام اضلاع میں ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ جاری ہے اور جعفرآباد میں بھی ایمرجنسی پلان کے تحت تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

