بارشیں،سیلاب،مولئی اور شہداد زئی شدید متاثر، 18 دن گزرنے کے باوجود انتظامیہ نے دورہ تک نہیں کیا،محمد اقبال

خضدار (این این آئی) ضلع سوراب سے تعلق رکھنے والے سیاسی و سماجی رہنماؤں نے خضدار پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ یونین کونسلز مولئی اور شہداد زئی کی تباہ کن صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ پریس کانفرنس میں محمد اقبال حنفی، حافظ خلیل الرحمٰن لہڑی (چیئرمین یونین کونسل مولئی)، محمد ابراہیم (چیئرمین یونین کونسل شہداد زئی)، فضل الرحمان، شاہ زمان، عبد الحلیم، منصور احمد اور عبدالرشید نے خطاب کیا اور ضلعی انتظامیہ کی غفلت اور عدم توجہی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔رہنماؤں نے تفصیل سے بتایا کہ حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب نے ان کے علاقوں میں بے پناہ تباہی مچائی ہے۔ متعدد گھر مکمل طور پر منہدم ہوگئے، جبکہ دیگر کو شدید نقصان پہنچا جس سے خاندان بے گھر ہوکر کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔ تیار فصلیں، جو کسانوں کی سال بھر کی محنت کا نتیجہ تھیں، سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئیں، جس سے غذائی بحران کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ بڑی تعداد میں مویشی سیلاب میں بہہ گئے یا شدید زخمی اور بیمار ہوگئے، جو گلہ بانوں کی معاشی کمر توڑنے کا سبب بنے۔ زرعی بندوں کا ٹوٹنا، سڑکوں کی بندش۔ انہوں نے کہا کہ یہ تباہی نہ صرف معاشی بلکہ انسانی سطح پر بھی ایک بڑا سانحہ ہے، جہاں لوگ بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔رہنماؤں نے ضلعی انتظامیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 18 دن گزرنے کے باوجود انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں کا دورہ تک نہیں کیا، جو ان کی غفلت اور عوام دشمن پالیسیوں کی غمازی کرتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتظامیہ نے سیلاب کی پیشگی وارننگ کو نظر انداز کیا اور امدادی تیاریاں نہ کیں، جس کی وجہ سے نقصانات میں اضافہ ہوا۔ “یہ انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت ہے کہ عوام بھوک، بیماری اور کسمپرسی کی حالت میں جی رہے ہیں، جبکہ حکومتی افسران اپنے دفاتر میں بیٹھے ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ متعدد بار رابطہ کرنے کے باوجود کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا، جو انتظامیہ کی عوام سے لاتعلقی کو ظاہر کرتا ہے۔ حکومتی اور فلاحی تنظیموں کی غیر فعالیت کو “سوالیہ نشان” قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ادارے عوام کے ٹیکسوں پر پلتے ہیں مگر بحران میں غائب ہوجاتے ہیں، جس سے علاقہ مکینوں میں شدید مایوسی اور غصہ پایا جاتا ہے۔رہنماؤں نے حکام بالا سے فوری نوٹس لینے اور نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یونین کونسلز مولئی اور شہداد زئی کو فوری طور پر آفت زدہ قرار دیا جائے تاکہ امدادی کارروائیاں شروع کی جاسکیں۔ انہوں نے زور دیا کہ انتظامیہ متاثرہ علاقوں کا فوری دورہ کرے، سڑکوں اور مواصلاتی نظام کی بحالی کو ترجیح دے، عوام کو خوراک، ادویات، خیمے اور دیگر بنیادی امداد فوری طور پر فراہم کرے۔ کسانوں کی تباہ شدہ فصلات اور گلہ بانوں کے مویشیوں کے نقصانات کا مکمل جائزہ لیا جائے اور انہیں مناسب مالی معاوضہ دیا جائے تاکہ وہ دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ زرعی بندوں کی مرمت اور سیلاب زدہ گھروں کی تعمیر نو کے لیئے فنڈز جاری کیئے جائیں، اور مستقبل میں ایسے سانحات سے بچاؤ کے لیئے مستقل اقدامات کیئے جائیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری امدادی اقدامات نہ اٹھائے گئے اور نقصانات کا ازالہ نہ کیا گیا تو وہ خاموش تماشائی نہیں رہیں گے بلکہ احتجاجی تحریک شروع کریں گے، جس میں روڈ بلاک اور دھرنے شامل ہوسکتے ہیں۔ رہنماؤں نے اپیل کی کہ حکام عوام کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں اور انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کریں تاکہ متاثرین کی مشکلات کم کی جاسکیں اور علاقے کی بحالی ممکن ہوسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں