کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان اسمبلی نے انسداددہشت گردی اور فرانزک سائنس کے ترمیمی مسودات قانون منظور کرلئے،اجلاس میں بلوچستان لیویز فورس سے متعلق مسودہ قانون بھی منظور کرلیاگیابلوچستان اسمبلی کا اجلاس دو روز کے وقفے کے بعد اسپیکر عبدالخالق خان اچکزئی کی زیرصدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں بلوچستان انسداد دہشت گردی اور فرانزک سائنس کے ترمیمی مسودات قانون اور بلوچستان لیویز فورس کا مسودہ قانون پارلیمانی سیکرٹری زرین خان مگسی نے پیش کئے۔رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے انسداددہشت گردی اور بلوچستان لیویز فورس کے ترمیمی مسودہ قانون کی مخالفت کی۔انسداد دہشت گردی کے ترمیمی مسودہ قانون کیحوالے سے ان کا کہناتھا کہ اس مسودہ کی منظوری کیبعدہمیں انصاف واٹس اپ کیذریعیملیگا ہمیں اپنیخلاف گواہاں کاپتہ ہی نہیں چلیگا،مولانا ہدایت الرحمان کا یہ بھی کہناتھا کہ اس قانون کی منظوری کے بعدکوئی بیگناہ مارا گیا تو ذمہ دار موجودہ حکومت ہوگی، یہ قانون لانے کی بجائے عدالتوں میں اصلاحات لائیں، اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلی کا کہناتھا کہ ہمیں پتہ ہے کہ یہ پاپولر فیصلے نہیں ہیں، یہ مسودہ قانون سیاسی کارکنوں کے خلاف ہے، آج جمال رئیسانی ایوان میں موجود ہیان کیوالد دہشت گردی کا نشانہ بنے،وزیراعلی کا یہ بھی کہناتھا کہ 9/ 11 کے بعد امریکہ نے خصوصی قوانین بنائے، ایسے حالات میں خصوصی قوانین بنانے پڑتے ہیں، ہمیں ججز اور گواہاں کو تحفظ دینا ہے،میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بس سے اتارکرمسافروں کو قتل کیاگیالیکن کوئی گواہی دینیکیلئے تیار نہیں، لاپتہ افراد کے مسئلے کو کچھ سیاسی جماعتیں آلیکے طورپراستعمال کررہی ہیں، لیکن ان سیاسی جماعتوں نے لاپتہ افراد کے مسئلے کا حل تجویز نہیں کیا، ہم خصوصی قوانین بناکر لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کریں گے، یہ ریاست ہماری ہے،اسے توڑنے نہیں دیں گے، بعد میں مسودات قانون منظور کرلئے گئے۔اور اسمبلی اجلاس بارہ ستمبر سہ پہر تین بجے تک کیلئے ملتوی کردیاگیا۔

