بلوچستان میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہونے کے باوجود پارٹی کے جیالے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں

کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان امن جرگے کے سربراہ لالہ یوسف خلجی سے پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدر و سینیٹرالحاج سردار محمد عمر گورگیج،صوبائی جنرل سیکرٹری ربانی خان کاکڑ نے جمعرات کو انکے دفتر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر یاسرخان خلجی،سینئر رہنما پیپلزپارٹی عبدالجبار خلجی، سردار زاداہ بلوچ خان گورگیج، چیئرمین میر نورالدین نوشیروانی، انجینئر میراحمد لانگو، طیب بلوچ، انجنیئراحسان خلجی، صلاالدین کاکڑ، ثناء اللہ دانش گورگیج،شمس الدین کاکڑ، احسام الدین کاکڑ و دیگر موجود تھے۔ملاقات کے دوران پارٹی کی فعالیت، موجودہ سیاسی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ بلوچستان امن جرگے کے سربراہ لالہ یوسف خلجی نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت ہونے کے باوجود پارٹی کے جیالے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں پڑھے لکھے نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں کیلئے نوکریوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی وزراء پارٹی کے جیالوں اورکارکنوں کوانکاجائز مقام نہیں دیتے جس سے جیالوں میں مایوسی پھیل رہی ہے جو کسی بھی طرح پارٹی کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزراء نے جیالوں کے کام نہیں کئے تو آئندہ صوبے میں پارٹی کا نام لینے والا کوئی نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی وزراء کو پابند کیاجائے کہ وہ پیپلزپارٹی کے کارکنوں کے کاموں کوترجیح دیں تاکہ وہ صوبے میں پارٹی کی فعالیت میں اپنا کرداراد اکرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں نوکریاں میرٹ پر دینے کی بجائے سرعام فروخت ہورہی ہیں جس سے پڑھے لکھے نوجوان مایوسی کا شکار ہیں۔ پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر الحاج سردار محمد عمر گورگیج اور جنرل سیکرٹری ربانی خان کاکڑ نے کہا کہ پیپلز پارٹی عوام کی نمائند ہ جماعت ہے جس نے ہمیشہ عوام کے حقوق کیلئے جدوجہد کی ہے پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزراء سے کہا جائے گا کہ وہ پارٹی کے جیالوں کوترجیح دیں اورانکے جائز کام فوری طورپر کریں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ہمیں صوبے میں پارٹی کی فعالیت کا ٹاسک دیا ہے ہم پیپلزپارٹی کے پرانے ساتھیوں کے ساتھ ملکر صوبے میں پیپلز پارٹی کو فعال اور منظم بنائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں