افغان مہاجرین کا انخلا باعزت اور ترتیب کے ساتھ کیا جائے،عوامی حلقے

دالبندین(این این آئی)ضلع چاغی کے عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان مہاجرین کے مکمل انخلا کے بعد مختلف علاقوں میں غیرجانبدار تحقیقات کی جائیں، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کون اصل مقامی باشندہ ہے اور کون غیر ملکی ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ 1980ء کے آس پاس افغان مہاجرین بڑی تعداد میں ضلع چاغی میں آ کر آباد ہوئے۔ اس وقت دالبندین اور آس پاس کے علاقوں کی آبادی بہت کم تھی۔ بعد میں قحط اور خشک سالی کی وجہ سے سرحدی علاقوں میں مالداری ختم ہو گئی، جس کے باعث ہزاروں مقامی خاندان بھی دالبندین، تفتان اور دیگر علاقوں میں آ کر بس گئے۔ اس صورتحال میں مقامی اور غیر مقامی افراد ایک ساتھ آباد ہو گئے، جس کی وجہ سے آج دونوں میں فرق کرنا مشکل ہو چکا ہے۔اب جب کہ افغان مہاجرین واپس اپنے وطن جا رہے ہیں، عوامی حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ چاغی کے مختلف علاقوں جیسے گردی جنگل، پوستی، چاھئے سرحدی علاقے برابچہ، کلی سرگل، فیصل کالونی، ظہور کالونی اور دیگر مقامات — میں صاف، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کون پاکستانی شہری ہے اور کون جعلی دستاویزات پر یہاں رہ رہا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جن افراد کے پاس اپنے آبا و اجداد کے پرانے مقامی دستاویزات موجود ہیں، وہی اصل پاکستانی کہلانے کے حق دار ہیں۔ لیکن جن کے پاس صرف گزشتہ 30 سے 40 سال کا ریکارڈ ہے اور اس سے پہلے کا کوئی ثبوت نہیں، ان کی شہریت مشکوک ہو سکتی ہے۔انہوں نے حکومت بلوچستان، نادرا، محکمہ داخلہ اور ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ ایک آزاد تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے جو دالبندین، تفتان، کلی اسٹیشن، کلی سرگل دالبندین، فیصل کالونی، ظہور کالونی، داؤ آباد، کلی قاسم خان، کلی ہاشم خان اور دیگر مضافاتی علاقوں میں مکمل چھان بین کرے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کئی افغان مہاجرین نے خود کو مقامی ظاہر کر کے جائیدادیں خریدی ہیں اور گھروں کی تعمیر کی ہے۔ اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ مکمل تحقیقات کی جائیں تاکہ کوئی بااثر افغان مہاجر بچ نہ جائے اور سب کو برابر دیکھا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ افغان مہاجرین کا انخلا باعزت اور ترتیب کے ساتھ کیا جائے، لیکن یہ انخلا یکساں ہوناچاہے وہ بااثر ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں