حب ( این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر مرکزی رہنما، ترجمان صدر آصف علی زرداری و صوبائی وزیر زراعت میر علی حسن زہری ساکران پہنچ گئے۔ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے جہانزیب خان غوریزئی بھی ان ہمراہ موجود تھے۔ وہ بارشوں کے دوران بچاؤ بند ٹوٹنے سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے سبزعلی گوٹھ اور کانٹو ندی ساکران پہنچے۔ صوبائی وزیر نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور موقع پر انتظامیہ کو ضروری ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے اس موقع پر بچاؤ بند ٹوٹنے کے باعث لسبیلہ کینال کو پہنچنے والے نقصانات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔ صوبائی وزیر نے کینال کی فوری بحالی کے احکامات دیتے ہوئے کہا کہ دو دن کے اندر اندر لسبیلہ کینال کو بحال کیا جائے تاکہ عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ڈپٹی کمشنر حب نثار احمد لانگو۔ ایس ایس پی بخاری فاضل ، اے سی ایریگشن اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، اور بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور بحالی کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے۔میر علی حسن زہری نے اس موقع پر کہا کہ بارشوں کے باعث پل کا پشتہ بہہ جانے سے آمدورفت میں عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور علاقے کے مختلف دیہات کا زمینی رابطہ بھی متاثر ہوا۔ صوبائی وزیر نے موقع پر نقصانات کا تفصیلی معائنہ کیا اور حکام کو پل کی فوری بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔انہوں نے کہا کہ کانٹو پل عوام کی آمدورفت اور زرعی اجناس کی ترسیل کا اہم ذریعہ ہے، اس کی فوری مرمت اور بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، حکومت ہر ممکن وسائل بروئے کار لا کر ان کے مسائل کے حل کو یقینی بنائے گی۔اس موقع پر ڈی جی پی ڈی ایم اے اور ڈپٹی کمشنر حب نے صوبائی وزیر کو بحالی کے لیے جاری اقدامات پر بریفنگ بھی دی اور بتایا کہ ہنگامی بنیادوں پر مرمتی کام شروع کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔دریں اثناء صوبائی وزیر زراعت میر علی حسن زہری اور ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے جہانزیب خان غوریزئی نے لیڈا کانفرنس ہال میں مشترکہ پریس کانفرنس کی، جس میں بارشوں سے متاثرہ علاقوں اور لسبیلہ کینال کی فوری بحالی کے حوالے سے اہم فیصلوں اور اقدامات کا اعلان کیا گیا۔ اس موقع پہ ڈپٹی کمشنر نثار احمد لانگو سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔صوبائی وزیر میر علی حسن زہری نے کہا کہ میرا چین کا دورہ صدر آصف علی زرداری کے ساتھ طے شدہ تھا، تاہم صدر زرداری کی ہدایت پر میں اپنے حلقے کے عوام کے ساتھ کھڑا ہونے کے لیے آیا ہوں۔ میر علی حسن زہری نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے متاثرین کی فوری امداد کے لیے 20 کروڑ روپے کا اعلان کیا ہے جبکہ وزیر برائے آبپاشی کی جانب سے 3 کروڑ روپے کی سمری بھیجی گئی ہے، جس میں سے 50 لاکھ روپے ریلیز ہو چکے ہیں اور ڈھائی کروڑ روپے مزید جلد مل جائیں گے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے جہانزیب خان غوریزئی نے اس موقع پر کہا کہ بارشوں کے باعث متاثرہ لسبیلہ کینال کی بحالی کا کام تیز رفتاری سے جاری ہے اور اگلے 2 سے 3 روز میں کینال کو مکمل طور پر فنکشنل کر دیا جائے گا۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان، صوبائی وزیر زراعت اور چیف سیکریٹری بلوچستان سب کا ایک ہی مؤقف ہے کہ صنعتی زون اور شہری آبادی کو پانی کی فراہمی کسی بھی صورت متاثر نہیں ہونی چاہیے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ اس وقت تک ضلع حب میں ایک ہزار خاندانوں کے لیے امدادی سامان پہنچا دیا گیا ہے جبکہ چار سے پانچ ہزار افراد متاثر ہونے کی ابتدائی رپورٹس ہیں، تاہم حتمی اعداد و شمار ایک سے دو روز میں مکمل رپورٹ کی صورت میں سامنے آئیں گے۔صوبائی وزیر زراعت میر علی حسن زہری نے یقین دہائی کرائی بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گاکہ بارشوں کی تباہ کاریوں سے متاثرعوام کی ہر ممکن مدد اور بحالی ہماری پہلی ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کوئی بھی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
تازہ ترین
- آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے، ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ
- آبنائے ہرمز میں ایرانی حملے بند ہونے چاہئیں، قطر
- پی ٹی آئی کی 13 سالہ کرپٹ حکومت کی عجب کرپشن کی ایک اور غضب کہانی
- وزیراعظم بلوچستان کے مسائل پر کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس بلائیں، لیاقت بلوچ
- خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے
- وزارت خزانہ میں ٹیکس وکیل اور تجزیہ کاروں کی بھرتیوں کے لیے درخواستیں طلب
- کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی صوبے کی معدنیات پر کنٹرول کے لیے ہے، فضل الرحمان
- ’سول سرونٹس سیاستدانوں کے اثر میں نہ آئیں‘؛ قائد اعظم کے قول پر وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ
- حکومت کو جو کرنا تھا کردیا اب اسے ریورس کرے، بیرسٹر گوہر
- دہشت گردی کیخلاف تمام جماعتیں مل کر بیٹھیں تو وزیراعظم آج بھی مذاکرات کیلئے تیار ہیں، رانا ثنا

